انگلش سرزمین، فتوحات کم تنازعات زیادہ

England v Pakistan: 4th Test - Day Two...LONDON, ENGLAND - AUGUST 27: (L-R) Mohammad Amir, captain Salman Butt and Mohammad Asif of Pakistan watch the big screen replay shortly before Paul Collingwood of England was given out lbw by the TV umpire during day two of the 4th npower Test Match between England and Pakistan at Lord's on August 27, 2010 in London, England.  (Photo by Clive Rose/Getty Images) *** Local Caption *** Mohammad Amir;Salman Butt;Mohammad Asif
England v Pakistan: 4th Test - Day Two...LONDON, ENGLAND - AUGUST 27: (L-R) Mohammad Amir, captain Salman Butt and Mohammad Asif of Pakistan watch the big screen replay shortly before Paul Collingwood of England was given out lbw by the TV umpire during day two of the 4th npower Test Match between England and Pakistan at Lord's on August 27, 2010 in London, England. (Photo by Clive Rose/Getty Images) *** Local Caption *** Mohammad Amir;Salman Butt;Mohammad Asif

2f

دورہٴ انگلینڈ ہمیشہ سے ہی پاکستان کرکٹ ٹیم کیلئے کانٹوں کی سیج ثابت ہوا ہے، گورے جب جب ہارے پاکستانی ٹیم کا مورال گرانے کیلئے تنازعات کھڑے کرنا شروع کردیئے، ویسے انگلش سرزمین پر پاکستان کرکٹ ٹیم کے ریکارڈز کچھ اچھے نہیں، پھر بھی تنازعات کرکٹ سے زیادہ ہیں۔ پاکستان بورڈ ہو یا کھلاڑی سب ہی انگلینڈ کے دورے کو موت کی وادی قرار دیتے ہیں، ایک تو ان کے بولنگ ٹریکس پر پاکستانی بیٹسمین ٹک نہیں پاتے، اوپر سے ان کے میڈیا کی توپیں ایسے ایسے گولے برساتی ہیں کہ ہمارے کھلاڑیوں کے کس بل نکل جاتے ہیں۔ ہر بار پاکستان کرکٹ بورڈ نت نئے تجربات کرتا ہے تاکہ تنازعات سے بچ سکے لیکن بیشتر اس میں ناکامی ہوتی ہے جس کی وجہ کھلاڑیوں کا بے قابو ہونا ہے اور جب انہیں قابو کیا جاتا ہے تو وہ ’’رونا‘‘ روتے ہیں کہ حد سے زیادہ پابندیاں انہیں ’’تازہ دم‘‘ نہیں ہونے دیتیں۔

England v Pakistan: 4th Test - Day Two...LONDON, ENGLAND - AUGUST 27: (L-R) Mohammad Amir, captain Salman Butt and Mohammad Asif of Pakistan watch the big screen replay shortly before Paul Collingwood of England was given out lbw by the TV umpire during day two of the 4th npower Test Match between England and Pakistan at Lord's on August 27, 2010 in London, England.  (Photo by Clive Rose/Getty Images) *** Local Caption *** Mohammad Amir;Salman Butt;Mohammad Asif پاکستان نے اب تک انگلینڈ میں 47 ٹیسٹ کھیلے، 9 جیتے، 20 ہارے اور 18 ڈرا کئے۔ 36 ون ڈے انٹرنیشنل میچز میں سے 13 جیتے، 22 ہارے اور ایک بلا نتیجہ رہا۔ 4 ٹی 20 انٹرنیشنل میچز میں سے صرف 1 جیتا اور 3 ہارے۔ اب دیکھتے ہیں کہ امسال کے دورے پر پاکستان ٹیم تنازعات سے بچ پاتی ہے یا نہیں اب تک جو تنازعات ہوئے ان کی مختصر سی تفصیل درج ذیل ہے۔

1954 : پہلی مرتبہ پاکستانی ٹیم نے انگلینڈ کا دورہ کیا 4 میچز کی سیریز فضل محمود کی تباہ کن بولنگ کے باعث ایک ایک سے برابر رہی، انگلش میڈیا یہ شکست ہضم نہ کرسکا کیونکہ پاکستان پہلی ٹیم تھی جس نے میڈن ٹور پر ہی انگلینڈ کو ٹیسٹ ہرایا تھا۔ 1962 : پاکستانی ٹیم دوسری مرتبہ گوروں کے دیس پہنچی تو کیریئر کا واحد ٹیسٹ کھیلنے والے آف اسپنر جاوید اختر پر چکنگ کا الزام لگا کر طوفان کھڑا کیا گیا، نتیجہ پاکستان 5 ٹیسٹ کی سیریز 0-4 سے ہار گیا۔

2c 67ء، 71ء، 74ء اور 78ء کے دوروں پر پاکستان فتح کو ترسی اس لئے کسی تنازع کو شہ سرخیوں میں نہ لایا گیا۔ 1982ء : کے دورے پر عمران خان نے ناقص امپائرنگ کیخلاف آواز اٹھاکر امپائر تبدیل کروائے تو نہ تھمنے والا طوفان برپا کیا گیا اس دورے پر پاکستان ایک ٹیسٹ جیتا لیکن دو ہارا۔ 1987ء : سلیم یوسف نے بوتھم کا کیچ تھاما تو اس پر بوتھم نے گراؤنڈ میں ہی تماشہ کھڑا کردیا جسے انگلش میڈیا نے بڑھا چڑھا کر پیش کیا تاہم پاکستان 5 ٹیسٹ کی یہ سیریز 0-1 سے جیت گیا، اسی ٹور میں حسیب احسن اور انگلش میڈیا کے درمیان تو تو میں میں بھی ہوئی۔

2a 1992ء : عاقب جاوید کی ٹیل اینڈر ڈیوڈ میلکم کو شارٹ پچز گیندوں پر انگلش امپائر کین پامر نے تنازع بنایا جس پر جاوید میانداد بھی غصے سے آگ بگولہ ہوئے، اسی سال وسیم اور وقار کی جوڑی کی تباہ کن بولنگ کے باعث بال ٹیمپرنگ کا الزام لگایا گیا۔ 1996ء : ای این بوتھم نے پاکستانی ٹیم پر بال ٹیمپرنگ کا الزام لگاتے ہوئے کیس کیا، جسے عمران خان نے لڑ کر جیتا، اسی دورے کے

2e

تیسرے ون ڈے میں راشد لطیف نے ٹیم کو میچ جتواکر ڈریسنگ روم کی طرف بڑے جوش سے بار بار بلا لہرایا تو انگلش میڈیا نے الزام لگایا کہ ٹیم میچ ہارنا چاہتی تھی لیکن راشد لطیف نے میچ جتوا کر ٹیم کو پیغام دیا تھا بلا لہرا کر۔

2 2006ء : اوول میں پاکستان ٹیم پر بال ٹیمپرنگ کا الزام لگا تو موجودہ چیف سلیکٹر انضمام الحق جو اس وقت ٹیم کے کپتان تھے نے گراؤنڈ میں اترنے سے انکار کیا اور میچ انگلینڈ کے حق میں ’’فور فیٹ‘‘ قرار دیا گیا۔

2d 2010ء : سلمان بٹ، محمد عامر اور محمد آصف اسٹنگ آپریشن کے ذریعے اسپاٹ فکسنگ میں پکڑے گئے، اسی ٹور پر جوناتھن ٹروٹ اور وہاب ریاض کے جھگڑے نے بھی ہیڈ لائنز میں جگہ حاصل کی۔

ENGLAND

Tabool ads will show in this div