خودمختاری کاڈرامہ

May 31, 2016

6 window Collage

تحریر:احمد ولید

پاکستان کا حال لاہورکی گوالمنڈی میں تھڑے پر بیٹھے دھوتی اوربنیان پہنے اس خوش خوراک پہلوان جیسا ہے  جو دنیا کے حالات سے ناواقف ہے لیکن ایک گھنٹے سے ساتھ بیٹھے دوافراد کی باتیں سن رہا ہے۔ جوباربارامریکی طاقت کا ذکرکرتے ہیں کہ امریکہ نے فلاں ملک کے ساتھ یہ کردیا وہ کردیا اورسنا ہے اب اپنی باری ہے۔ پہلوان کے خون نے جوش مارا اوراس نے  روائتی لاہوری اندازمیں بڑھک لگادی ،"اوئے کی امریکہ امریکہ لائی اے، امریکہ دی ایسی تیسی۔ اونہوں وی ویکھ لواں گے اک واری ساڈے نال متھا لاکے تے ویکھے "۔ (کیا امریکہ امریکہ لگارکھی ہے، امریکہ کی ایسی کی تیسی، اسے بھی میں دیکھ لوں گا اگر اس نے ہمارے ساتھ ٹکر لی تو۔)

گوالمنڈی کے اس پہلوان جیسے کردارملک کے ہرکونے اور ہرشعبے میں پائے جاتے ہیں۔ پچھلے چالیس پچاس سال سے 'بہادراورغیور' عوام ایک اچھے اور کمال کے کارنامے کے منتظرہیں۔ ہمسائیوں سے تعلقات اوردنیا میں پاکستانیوں کی عزت وتوقیراور قدرومنزلت سب پرعیاں ہے۔

مارچ دوہزارتین میں امریکہ عراق پرحملہ کرچکا تھا۔ پاکستان افواہوں کی زد میں تھا کہ عراق کے بعد ہماری باری ہے۔ ادھر پہلے سے ہی پاکستان افغانستان کی سرحد پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جنگ میں چاہتے نا چاہتے ہوئے آلہ کارکے طور پراپنے فرائض خوش اسلوبی سے ادا کررہا تھا۔ اس وقت صدرجنرل پرویز مشرف پرسخت دباؤ تھا کہ پاکستان اپنی فوجیں عراق بھیجے۔ پاکستان افغانستان کے ساتھ مزید کسی اسلامی ریاست سے لڑنے کے لیے اپنی فوج بھیجنے کی سکت نہیں رکھتا تھا لہٰذامنت سماجت کرکے معذرت کرلی۔

اسی دوران جنرل پرویز مشرف لاہور آئے اور گورنر ہاؤس میں شہر کی صاحب علم اورمعززشخصیات سے خطاب کرتے ہوئے اپنی ساری مجبوریاں اور پریشانیاں بیان کیں۔ انہوں نے کہا "ہاں! عراق کے بعد پاکستان کی باری ہو سکتی ہے اگرہم نے طاقتور دنیا کے راستے میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی"۔ امریکہ کے اس خطے میں اپنے معاشی مفادات ہیں اورہم اس کی مخالفت کرنے کی جرات نہیں کرسکتے۔

US Navy handout photo of a RQ-4 Global Hawk drone over Naval Air Station Patuxent River

اسی طرح اس دورمیں ایک طرف قوم کواپنی مجبوریاں بتائے بغیر خفیہ طورپر ڈرون حملوں کا معاہدہ کیا گیا۔ دوسری طرف سیاستدانوں اور نام نہاد تجزیہ کاروں کوکھلا چھوڑ دیا کہ وہ ہر ڈرون حملے پرعوام کے جذبات بھڑکاتے رہیں۔ عوام اسی کشمکش میں سلگتے رہے اورایک دوسرے سے سوال کرتے رہے، 'کیا ہم امریکی ڈرون کو گرا نہیں سکتے؟'

ہم اپنی قوم کو دھوکے میں رکھے ہوئے ہیں، اسکول سے لے کریونیورسٹی تک ہمارے اساتذہ ہمیں اپنی بے بسی کا رونا سناتے نہیں تھکتے۔ ہمارے خلاف عالمی سازش ہو رہی ہے، ہمیں تعلیم اورصحت میں آگے نہیں جانے دیا جاتا کہ کہیں ہم ترقی نہ کرلیں۔ ہندو، عیسائی اور یہودی ہمارے خلاف اکٹھے ہو چکے ہیں اورہماری اس گراوٹ اورجہالت میں سب ان کا قصور ہے۔ ہم تو بہت اچھے، سچے، نیک و کاراورایماندار ہیں۔ جھوٹ ہمارے قریب سے نہیں گزرا۔

MUSHARAF ECL JASN PKG 17-03

دوہرا معیاراورانکار کی کیفیت ہمارے اندررچ بس گئے ہیں۔ ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن آپریشن کا واقعہ ہو یا پاک سرزمین سے ایمل کانسی کی گرفتاری کا معاملہ، عوام کوجان بوجھ کرسچ نہیں بتایا گیا تاکہ وہ بے چارے شش و پنج اورگمراہی کا شکاررہیں۔ عالم انکاریہ ہے کہ ایک بڑی تعداد میں پاکستانی یہ سمجھتے ہیں کہ اسامہ بن لادن یا توابھی بھی زندہ ہے یا پھرایبٹ آباد آپریشن سے پہلے مرچکا تھا۔ باقی سب ڈرامہ ہے۔

mullah mansoor

اب رہا افغان طالبان رہ نماء ملاء منصورکا معاملہ،خودمختاری اورسفارت کاری کا ایک اورناکام، پھس پھسا چیلنج۔ حکومت کی جانب سے ہرممکن کوشش کی گئی کہ حقائق عوام تک نہ پہنچ پائیں۔ امریکہ نے کھلے عام اعلان کیا کہ ان کی افواج نے ملاء منصور کو ہلاک کردیا ہے اورامریکی صدر نے اس کی تصدیق بھی کردی۔ مگر ہمارے وزیر داخلہ نے چند جملوں میں اسے تسلیم کرنے کی بجائے ادھرادھرکی ہانکنے کی ٹھانی۔ اپنے ہی محکمے کی دگرگوں حالت کا رونا روتے رہے جو کوئی نئی بات نہیں، سب جانتے ہیں کہ پاکستان کے محکمے کتنے کرپٹ ہیں۔

کبھی کہا کہ ملاء منصور کو دبئی یا بحرین میں کیوں نشانہ نہیں بنایا گیا تودوسری طرف بتایا کہ ہم ڈی این اے ٹیسٹ کے بغیراس کی تصدیق نہیں کرسکتے۔ سیدھی طرح یہ نہیں مانےکہ امریکہ نے اطلاع دی ہے کہ طالبان رہنماء کو امریکی افواج نے ایک میزائل حملے میں ماردیا ہے اورپاکستان اس کی تحقیقات کر رہا ہے کہ ملاء منصور پاکستان میں کیا کر رہا تھا۔ خود مختاری کے معاملے کوامریکی حکومت کے سامنے اٹھایا جائے گا۔ ایک بارپھرحقائق سے چشم ہوشی کی بھونڈی کوشش۔

ایک بے بس 'بہادر' قوم کو باربارزلیل کیا جا رہا ہے۔ عوام کو یہ بتانے سے ڈرتے ہیں کہ ہم اتنے بہادر ہیں نہیں جتنے دعوے کرتے ہیں۔ ہم حقیقت بتانے سے کیوں گریزاں ہیں کہ ایٹم بم یا فوجی طاقت سے زیادہ معاشی طاقت ہے جسے اگر حاصل کرلیا جائے تو ہم دنیا میں بہتر طریقے سے اپنی بات منوا سکتے ہیں۔

pervez musharaf

Tabool ads will show in this div