چائے خانے، ادبی مراکز زمانہ رفتگاں کا شکار

thelocalist.com-pakistan-tea-chai-2

تحریر: زاہد رضا

گلی محلوں سے لے کر عالیشان ہوٹلوں تک چائے ہماری ثقافت کا حصہ ہے لب سڑک قائم چائے کے ہوٹل گفتگو اور بحث و مباحث کا مرکز سمجھے جاتے ہیں ایک دن پرانی ڈائری کے اوراق پلٹتے نظر ایک ایسی تحریر پر پڑی جو ہم نے "پاک ٹی ہاؤس" لاہور سے متعلق لکھی تھی۔ گزشتہ برس لاہور میں قیام کے دوران شاعر، قلم کار اور ہمارے ہر دل عزیز دوست احتشام شامی کی جانب سے پاک ٹی ہاؤس میں ایک بیٹھک کا اہتمام کیا گیا۔ ہم اپنے دوست کی دعوت پر سر تسلیم خم کئے وقت مقررہ سے کچھ قبل ہی پہنچ گئے تو سوچا کہ کیوں نہ دیگر دوستوں کے آنے تک ٹی ہاؤس کے باہر پرانی کتب پر نظر التفات جما لی جائے۔ لہذا برائے فروخت دیکھ کر ہم اپنے آپ کو روک نہ پائے اور نادر کتابیں ٹٹولتے ٹٹولتے ایک قدیم نسخہ ہاتھ لگ گیا جسے خریدنے کے لئے ہم نے جیسے ہی کُتب فروش سے لب کشائی کی تو وہ صاحب فورا بولے کہ آپ کراچی سے تشریف لائے ہیں۔۔؟؟ ہم نے فورا اس گمان میں ہاں میں سر ہلا دیا کہ دکاندار شائد مہمان سمجھتے ہوئے کم قیمت وصول کرے مگر کیا کیجئے وہ محض میرا گمان ہی تھا۔

بحر کیف ان سے باتوں باتوں میں پاک ٹی ہاؤس کا ذکر نکلا تو معلوم ہوا کہ اس کا پرانا نام "انڈیا ٹی ہاؤس" ہے۔ تقسیم ہند سے قبل یہ ٹی ہاؤس ادبی و سیاسی مباحث کا مرکز تھا۔ پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے بعد اس کا نام "پاک ٹی ہاؤس" رکھ دیا گیا۔ اس سلسلے میں ضعیف العمر کتب فروش کا یہ بھی کہنا تھا کہ برصغیر کی تمام ادبی شخصیات کسی نہ کسی حوالے سے پاک ٹی ہاؤس سے منسلک رہی ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ایک وقت تھا جب چیئرنگ کراس سے لے کر انار کلی تک چائے خانے اور ہوٹل شاعروں، ادیبوں، فنکاروں اور ان سے ملنے آنے والے طالب علموں کا مسکن تھے، جن میں لارڈز ہوٹل، نظام ہوٹل اور پاک ٹی ہاؤس سب سے زیادہ شہرت رکھتے تھے۔ ان مقامات پر پڑھنے لکھنے سے شغف رکھنے والوں کا میلہ ہر وقت لگا رہتا تھا جبکہ اب زمانہ رفتگاں کا شکار انکی جگہ نامور ملٹی نیشنل کیفے اور ریستوران نے لے لی ہے۔ ادھر کراچی میں اپنے وقت کے معروف چائے خانے صدر ریگل پر روزنامہ آغاز کے نیچے "کیفے جہاں" اور صدر دواخانہ کے پاس"کافی ہاؤس" جہاں اپنے وقت کے قدآور صحافیوں اور ادیبوں کی نشست ہوا کرتی تھیں جو وقت کے بہاؤ کی نظر ہو گئیں، جبکہ آئی آئی چندریگر روڈ پر واقع "خیرآباد ٹی ہاؤس" اور صدر میں واقع کچھ چائے خانے آج بھی صحافیوں اور ادیبوں کے بغیر قائم و دائم ہے۔

844bdbf707fcd715f344fa2625e04e8d

شاعری، ادب و سیاست کی دنیا میں چائے خانوں کو خاص مقام حاصل رہا ہے۔ حال ہی میں کراچی پریس کلب میں امتیاز خان فاران کے دور صدارت میں "پٹھان کی چائے" کا خاص طور پر بندوبست کیا گیا تھا۔ پٹھان کی چائے کے یہ ہوٹل پورے کراچی میں جگہ جگہ نظر آئیں گے جن میں بیلچہ ہوٹل، پیالہ ہوٹل، کاکڑ ہوٹل، کوئٹہ رنگین ہوٹل قابل ذکر ہیں۔ اس کے علاوہ کئی دوسرے چائے خانے بھی جو فجر سے لیکر نصف شب تک کراچی والوں کو چائے پلاتے ہیں شہر بھر میں پائے جاتے ہیں۔ جدید طرز کے چائے خانے کراچی کے علاقے ڈیفنس میں بھی واقع ہیں جن میں چائے ماسٹر، چائے دھابہ، اور چھوٹو چائے وغیرہ شامل ہیں۔ یہ جدید طرز پر متعارف کرائے گئے چائے خانے ہیں جہاں زیادہ تر نوجوان نسل ہی چائے پینے آتی ہے۔ لب سڑک یا اندرون شہر قائم چائے کے یہ ہوٹلز باہمی امور پر تبادلے خیال کرنے کا بہترین ذریعہ بھی ہے، ان میں پیش کیا جانے والا گندمی مائل رنگ کا گرم شربت بہت سے روٹھے ہوئے کو منانے اور نئے لوگوں سے ملنے کا سبب بھی ہے۔ اب تشویش یہ ہے کہ ایسے چائے خانوں کا رواج اور مزاج بتدریج کم ہوتا جا رہا ہے جہاں شعراء و ادیبوں کی بیٹھک نئی نسل میں مکالمے کا ذریعہ سمجھی جاتی تھی۔ وقت آج ہماری موجودہ نسلوں میں ادب و دانشوری کے فروغ کے لئے ان مذکورہ ثقافتی مقامات کا ایک پھر احساس دلا رہا ہے۔

pak tea house

Writers

Tabool ads will show in this div