جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہ ہو روزی

 

پنجاب کا کسان ايک مرتبہ پھر سڑکوں پر ہے، ہزاروں کسانوں نے پنجاب اسمبلی کے باہر دھرنا ديا اور اپنی فصلوں کی بے قدری پر احتجاج کیلئے کئی ٹن آلو لاہور کی سڑکوں پر ضائع کردیئے ہيں، ايک سال کے دوران يہ پنجاب کے کسانوں کا تيسرا مظاہرہ ہے، اس سے پہلے جون 2015ء ميں اسلام آباد ميں پارليمنٹ ہاؤس کے سامنے کسان اکٹھے ہوئے اور کئی ہزار لیٹر دودھ زمين پر بہا ديا، پچھلے سال جولائی ميں ملتان سے لاہور تک مارچ کيا، انہيں لاہور ميں داخل ہونے سے قبل ٹھوکر نياز بيگ پر روک ليا گيا، کسانوں کو پوری رات سڑک پر ہی گذارنا پڑی، اگلی صبح انہيں پنجاب اسمبلی تک جانے ديا گيا مگر وزير قانون رانا ثناء اللہ نے ايسا لولی پاپ ديا کہ کسان اپنے مطالبات منوائے بغير ہی واپس گھروں کو چلے گئے۔

آخر ان کسانوں کے مسائل کيا ہيں؟، جنہیں پارليمنٹ ميں موجود سينکڑوں نمائندے حل نہيں کروا سکے، پاکستان ميں کسانوں کے ووٹوں سے مسند اقتدار تک پہنچنے کی تاريخ بہت پرانی ہے، پيپلز پارٹی کے بانی سربراہ نے روٹی، کپڑا اور مکان کا نعرہ لگايا تو پنجاب اور سندھ کے ديہی علاقوں نے 1970ء  کے انتخابات ميں پيپلز پارٹی کے نامزد ہر نتھو خيرے کو ووٹ دے کر منتخب کروا ديا، بعد ميں آنے والی بھی جمہوری اور غير جمہوری حکومتوں نے کسانوں اور زراعت کیلئے زبانی جمع خرچ تو بہت کيا مگر تمام تر وعدوں کے باوجود نہ جاگيرداری نظام کا خاتمہ ہوا اور نہ ہی کسانوں کو فصل کی پوری قيمت دينے کا انتظام ہوا، بجلی بھی مہنگی رہی اور زرعی  مداخل پر ٹیکس بھی عائد کردیئے گئے۔

کسانوں سے گندم، چاول اور کپاس کی خريداری کیلئے مختلف ادارے تشکيل دیئے گئے، مگر امدادی قيمت پر بھی فصل صرف سياسی اثر و رسوخ والے کی ہی بکی، کسان گندم، کپاس، آلو اور گنا کچھ بھی کاشت کرے، فائدہ تو صرف مڈل مين کو ہوگا يا مل مالکان کو، کسان کو کھاد، کيڑے مار ادويات اور بيج مہنگے داموں خريد کر مقررہ قيمت پر فصل فروخت کرنا پڑتی ہے، اگر کھاد، بيج اور ديگر زرعی مداخل جعلی ہوں يا ناقص، تو تمام تر نقصان بھی کسان کو ہی برداشت کرنا پڑتا ہے، ناقص کيڑے مار ادويات کی وجہ سے پچھلے سال پنجاب ميں کپاس کی فصل ميں 40 فیصد کمی ہوئی مگر کسی بھی ذمہ دار شخص يا کمپنی کو سزا نہيں ہوئی۔ آلو 5 روپے فی کلو بکا اور باسمتی چاول کی قيمت آدھی رہ گئی، مگر کسی کے کان پر جوں نہ رینگی۔

1b

کسانوں کا استحصال اتنا ہوچکا ہے کہ اب ملک کی زيادہ تر غريب آبادی کا تعلق ديہات سے ہے، جو 2 ڈالرز فی کس روزانہ سے کم کما رہے ہيں، رہی سہی کسر بين الاقوامی منڈی ميں اجناس کی قيمتوں ميں گزشتہ 3 سالوں سے جاری کُساد بازاری نے پوری کردی، ایک طرف پاکستان کی زرعی اجناس پر مبنی برآمدات کی کمی کی وجہ سے معيشت متاثر ہوئی تو دوسری طرف زراعت بھی اب اتنا منافع بخش پيشہ نہيں رہا۔

يہی وجہ ہے کہ شہروں کے ارد گرد زمينيں فيکٹريوں اور رہائشی کالونيوں ميں بدل گئی ہيں، اگر فوری طور پر کسانوں کے مسائل کا حل نہ نکالا گيا تو آنیوالے سالوں ميں سبزيوں کے بعد پاکستان کو اجناس بھی درآمد کرنی پڑسکتی ہيں، اسی طرح اگر پاکستانی کسان ہمسايہ ملک بھارت کے کاشتکاروں کی گھيراؤ جلاؤ کی راہ پر چل پڑے تو اس کے سياسی اور سماجی مُضمرات بھی ہوسکتے ہيں۔

PUNJAB

Farmers Protest

Tabool ads will show in this div