مخہ پشتون ثقافتی کھیل

May 24, 2016

Mukha-game

تحریر: شعیب احمد جٹ

پشتونوں کي تاريخ بہت پراني ہے زمانہ کے ساتھ بہت کچھ بدلا ليکن پختونوں کي کچھ روايات آج بھي ''جوں کي توں'' ہيں ايسي يہي نہ بدلي جانے والي ايک ثقافت گذشتہ دنوں کراچي ميں ديکھي۔ پشتونوں کے انداز کي طرح ان کي يہ ثقافت بھي کچھ مختلف تھي۔ کراچي کے علاقے سلطان آباد ميں يوسف زئي قبيلے کے لوگ اکھٹے تھے اور ہاتھوں ميں لمبي لمبي چھڑياں اور اتني ہي لمبي لمبي کمانيں سنبھالے کھڑے تھے۔ ڈھول کي مخصوص تھاپ اور طوطي کي دلفريب آواز ہر کسي کو اپني جانب کھينچ رہي تھي۔ پوچھنے پر معلوم ہوا يوسف زئي قبيلے کا روايتي ثقافتي کھيل "مخہ" کھيلا جارہا ہے ۔ اس کھيل کے مختلف انداز واقعي ہي دلچسپي کا باعث تھے۔

کھلاڑي جب اس مخصوص "تير کمان" جسے "غشہ ڈنگ" کو مخصوص ہي انداز ميں سر کے اوپر سے اٹھاتا تھا تو وہ منظر اس کھيل کي خوبصورتي کو چار چاند لگاديتا تھا۔ کاميابي ملنے پر حامي جھومنے لگتے تھے اور نشانہ چوکنے پر مخالفين۔ اس کھيل کے ساز و سامان عام نہيں تھے سات فٹ لمبي تير نما چھڑي جسے يہ لوگ "غشہ" کہتے ہيں پر خوبصورت نقش و نگار تو تھے ہي ساتھ ہي اس کا "سر" (ہيڈ) کسي تير کي طرح نوک دار نہيں تھا بلکہ يہاں ايک گول پتلي سي لوہے کي پليٹ نمبا ٹوپي لگائي تھي تھي جسے طبرے کہتے ہيں۔ اتني ہي لمبے کمان نما اوزار کو "ڈنگ" کہا جارہا تھا جس پر گول چپٹي ربڑيں لگائي گئي تھيں جنہيں ''جئي'' کہا جاتا ہے۔

Mukha-game-2

اس کھيل کو سب سے زيادہ حيرت کا باعث بنارہا تھا ايک پندرہ فٹ لمبا پتھروں سے بنايا گيا ستون جسے ''بھوت'' کہا جاتا ہے اور اس کے ٹاپ پر ايک مٹي کا ڈھير سليقے سے بنايا جاتا ہے جسے ''ٹکئے'' کہا جاتا ہے اور اس پر سفيد ٹکيا بھي لگائي جاتي ہے۔ جسے عام الفاظ ميں ہدف کہہ سکتے ہيں۔ بھوت سے ''ساڑھے بتيس'' فٹ کي دوري پر ايک لکڑي کا تخہ رکھا جاتا ہے اس تختے پر اس کھيل کا کھلاڑي آتا ہے اور ''بھوت'' پر سجے ''ٹکئے'' پر نشانہ لگاتا ہے۔ اس کھيل کے قوانين کے مطابق نشانہ لگا تو ''دو پوائنٹس'' مليں گے ليکن نشانہ چوکا تو ''پچاس روپے'' جرمانہ ادا کرنا پڑتا ہے۔

اس کھيل ميں ہر ٹيم بارہ کھلاڑيوں پر مشتمل ہوتي ہے ليکن ''باري'' دس کھلاڑي ليتے ہيں اور ہر کھلاڑيوں کو دو بار نشانہ لگانے کا موقع ملتا ہے۔ ايک مخصوص اسکور بورڈ بھي اس کھيل کي شان بڑھاتا ہے۔ اس دلچسپ کھيل کا سب سے منفي پہلو يہ تھا کہ کراچي ميں اس کھيل کے ليے کوئي صاف جگہ ميسر نہيں اور يہ سارا ميلہ سلطان آباد کے گندے نالے کے کنارے پر کچرے کے ڈھير پر سجايا جارہا ہے۔

Mukha-game-3

کراچي کو بين الاقوامي شہر کا درجہ بھي حاصل ہے اور اسے ''مني پاکستان'' کے نام سے بھي پکارا جاتا ہے ليکن افسوس کے يہاں قديم ثقافتوں کو زندہ رکھنے کے ليے زيادہ اہميت نہيں دي جاتي اگر حکومت ''مخہ'' کے اس دلچسپ کھيل کي سرپرستي کرے تو يقينا نہ صرف يہ کھيل مقبول ہوگا بلکہ اسي عالمي شہرت بھي مل سکتي ہے۔

Tabool ads will show in this div