جھوٹ بولنے والا وزیراعظم نہیں رہ سکتا، عمران خان

May 20, 2016

Pti Jalsa Imran Speech Vo Fsd 20-05

فیصل آباد : کپتان کہتے ہیں میاں صاحب سے 4 سوالوں کا جواب مانگا، کمائی جائز تھی؟، ٹیکس تفصیلات بتادیں؟، کیا پیسہ قانونی طور پر باہر گیا؟ فلیٹ کی خرید و فروخت کی تاریخ بتادیں؟، میاں نواز شریف ڈیڑھ ماہ سے طوطا مینا کی کہانی سُنا رہے ہیں، جو قومی اسمبلی میں جھوٹ بولے اسے وزیراعظم رہنے کا حق نہیں، جس پر اعتماد نہ ہو وہ قوم کے پیسے کی رکھوالے کیسے کریگا،  کبھی بھی کرپٹ انسان کرپشن کرنیوالوں کا احتساب نہیں کرسکتا، کرپشن میں قوم کا پیسہ چوری ہوتا ہے، بیرون ملک بینکوں میں موجود پاکستان کے 200 ارب ڈالر واپس لائیں گے۔ انہوں نے جلسے کے دوران سماء کی فوٹیج بھی دکھائی جس میں شریف خاندان کے بیانات کا تضاد واضح طور پر سامنے آیا۔

فیصل آباد میں بڑے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان ایک بار پھر وزیراعظم نواز شریف پر خوب گرجے برسے، انہوں نے کہا کہ 20 سال سے کہہ رہا ہوں کرپشن کا خاتمہ ضروری ہے، ملک میں لوگ ذاتی مفاد کیلئے سیاست میں آتے ہیں، کبھی بھی کرپٹ انسان کرپشن کرنیوالوں کا احتساب نہیں کرسکتا، بلوچستان میں سیکریٹری فنانس کو پکڑا گیا، اس کے گھر سے 68 کروڑ روپے نکلے، جب کرپشن ہوتی ہے تو حکومت کا نہیں آپ کا پیسہ چوری ہوتا ہے، آپ جو بھی چیز خریدتے ہیں، اس پر 17 فیصد ٹیکس لگتا ہے، ڈیزل پر 98 اور پیٹرول پر 50 فیصد ٹیکس وصول کیا جارہا ہے، موبائل کارڈ پر بھی 43 فیصد ٹیکس دینا پڑتا ہے۔

پی ٹی آئی چیف کہتے ہیں کہ کرپشن ملک کو کھوکھلا کررہی ہے، ہمارے پاس ملک چلانے کیلئے پیسہ نہیں، بڑے لوگ ٹیکس نہیں دیتے، کرپشن ختم کیے بغیر سرمایہ کاری نہیں ہوگی، قرضے پر ملک چل رہا ہے، ہر روز 6 ارب روپے قرض لیا جاتا ہے، موجودہ حکومت نے 3 سال میں 5 ہزار ارب روپے کا قرضہ لیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک بہت عظیم خواب کا نام ہے، پاکستان بننے پر دنیا بھر کے مسلمانوں نے خوشیاں منائیں، میرے پاکستان کے خواب میں قانون کے سامنے سب برابر ہوں گے، آئندہ خواتین سے کوئی بدتمیزی نہیں ہوگی، جو خواتین کے قریب آیا اس کی پھینٹی لگے گی، ایسا ملک بننا ہے جو دنیا میں عدل و انصاف کی مثال بنے گا، جب ہم خود بدلیں گے تو ہی ہماری حالت بدلے گی، کسی قوم کو جدوجہد کے بغیر آزادی نہیں ملتی، عظیم ملک و قوم بننا ہے تو مل کر جدوجہد کرنی ہے۔

کپتان بولے کہ فیصل آباد خوشحال تھا تو باہر سے ڈالر آیا کرتے تھے، آج فیکٹریاں بند اور ٹیکسٹائل انڈسٹری برے حالات میں ہے، مزدور بے روزگار ہورہے ہیں، کسان کو پیداوار کی قیمت نہیں مل رہی، سردیوں میں گیس اور گرمیوں میں بجلی نہیں، حکمران پیسہ بنائے تو کوئی بھی ملک نہیں چل سکتا، نواز شریف کو برطانیہ کا حکمران بنادیں وہ بھی تباہ ہوجائے گا۔

مزید جانیے ؛ عوام کو 2013ء میں جھانسہ دیا گیا، تبدیلی ہم لائیں گے، وزیراعظم

عمران خان نے مزید کہا کہ ہم نے وزیراعظم سے صرف 4 سوالوں کا جواب مانگا، آپ کی کمائی جائز تھی؟، کیا آپ ٹیکس ادا کرتے ہیں، تفصیلات بتادیں؟، کیا آپ کا پیسہ قانونی طور پر باہر گیا، فلیٹ کی خرید و فروخت کی تاریخ دکھادیں، ڈیڑھ ماہ ہوگیا وزیراعظم طوطا مینا کی کہانی سناتے ہیں، جو قومی اسمبلی میں جھوٹ بولے اسے وزیراعظم رہنے کا حق نہیں، جس پر قوم کو اعتماد نہ ہو وہ کیسے آپ کے پیسے کی رکھوالی کریگا، میاں صاحب آپ کو جواب دینا پڑے گا، مجھے میاں صاحب پر ترس آنے لگا ہے، میاں صاحب ٹاپ آڈیٹرز کو بلا کر میرا احتساب کرالیں، آپ کی سیکیورٹی پر مامور 2700  اہلکاروں کے خرچے کے چوتھائی حصے سے بھی کم میں بنی گالہ خریدا۔

کپتان کا کہنا ہے کہ جب تک وزیراعظم کا احتساب نہیں ہوگا غریبوں کو پکڑنے کا حق نہیں، غریب کا بچہ چوری کرے تو جیل، یہاں اربوں روپے باہر جارہے ہیں، میاں صاحب کے بچوں کے نام پر نام آئیں گے، آئی سی آئی جے کی ویب سائٹ کو گوگل کرکے دیکھیں، نہ جہانگیر ترین کا نام آئے گا، نہ علیم خان کا، تحریک انصاف کی حکومت آئی تو تاجروں کو تحفظ دیں گے، بیرون ملک بینکوں میں پڑے پاکستان کے 200 ارب ڈالر واپس لیکر آئیں گے۔

عمران خان کہتے ہیں کہ پوری کوشش کریں گے ساری اپوزیشن کو ساتھ رکھیں، چاہتے ہیں کرپشن کیخلاف ساتھ مل کر چلیں، اگر باقی لوگ ساتھ نہ چلے تو بھی تحریک انصاف آخر تک جائے گی، میاں صاحب بزنس مین ہیں ضمیر خرید لیتے ہیں، مولانا فضل الرحمان سب سے پہلے بک گئے، آگے پتہ چل جائے گا کون کس کے ساتھ ہے، ایک طرف کرپشن بچاؤ، دوسری طرف کرپشن مٹاؤ تحریک ہے، انشاء اللہ کرپشن کیخلاف جنگ جیت کر دکھائیں گے۔ سماء

PM

PTI

IMRAN KHAN

ACCOUNTABILITY

SHARIF FAMILY

PanamaPapers

SAMAA Video

Tabool ads will show in this div