ہاتھ ہوگیا؟

پیچ ۱ ليجئے وہ دن بھي گزر گيا جس کا اپوزيشن سميت پوري قوم کو انتظار تھا، وزيراعظم مياں نواز شريف پارليمنٹ ميں آئے پوري تياري کے ساتھ، لکھي ہوئي تقرير پڑھي،اپوزيشن کے الزامات کا جواب ديا کہيں سيدھا سيدھا اور کہيں گھما پھرا کر حکومتي ارکان نے ڈيسک بجا بجا کر داد دي، حزب اختلاف خاموشي سے سنتي رہي، تقرير ختم ہوئي تو محترم اپوزيشن ليڈر خورشيد شاہ نے دو چار لفظ بول کروہ کچھ کرديا جس کي کسي کو اميد نہيں تھي۔ پیچ ۲ تحريک انصاف کے کپتان پوري تياري کر کے آئے تھے ہاتھوں ميں دستاويزات کا پلندہ بھي موجود تھا، شاہ محمود قريشي خان صاحب کے ساتھ تشريف فرما تھے اور وزيراعظ٘م کي تقرير کے ساتھ ساتھ پوائنٹس بھي لکھ کر  کپتان کو ديتے رہے، لگتا تھا خان صاحب مياں صاحب کو اسي طرح للکاریں گے جيسے پارليمنٹ سے باہر کرتے ہيں ليکن ايسا بھي کچھ  نہيں ہوا۔ بات پارليمنٹ سے نکل کر پھر ميڈيا کے کيمروں پر آگئي، وہي نيوز کانفرنسيں ،وہي الزامات وہي جوابات، بات کريں نواز شريف کي تقرير کي تو محترم وزيراعظم نے پارليمنٹ کے فلور پر کھڑے ہوکر جو باتيں کيں وہ ريکارڈ کا حصہ بن گئي ہيں، وزيراعظم نے جس پارليمںٹ ميں سچ بولنے کا حلف اٹھارکھا ہے وہاں کي گئي کوئي بات جھوٹ نکلي تو حلف کي خلاف ورزي کا انجام کيا ہوگا اس کا پتہ  وزيراعظم کے ساتھ ساتھ  اپوزيشن کو بھي ہے اسي لئے سوالوں کا جواب مانگنے کے لئے انہيں پارليمنٹ ميں طلب کيا جارہا تھا۔ پیچ ۳ وزيراعظم نے اسمبلي کے فلورپر دبنگ انداز ميں اگر يہ اعلان کيا ہے کہ لندن کے فليٹ دوہزار پانچ ميں خريدے گئے  اور پاکستان سے ایک روپیہ بھی باہر نہیں گیا  تو انہوں نے يہ تير ہوا ميں نہيں چلايا ۔  يہ بات وہ بھي يقينا جانتے ہوں گے کہ اپوزيشن کے پاس جو دستاويزات ہيں ان ميں فليٹوں کي خريداري اس سے کئي سال پہلے ظاہر کي گئي ہے ۔۔اوراتنے کچے سياستدان نہيں کہ وہ اسمبلي ميں ايسي بات کرديں جوغلط ثابت ہونے پر ہميشہ کے لئے نااہل ہي ہو جائيں ۔ بظاہراپوزيشن ليڈر خورشيد شاہ نےايوان ميں حکومت کي مشکلات کم کرنے ميں اہم کردار ادا کيا ہے اور وزيراعظم کي تقرير کے بعد واک آوٹ کرکے ماحول کو اس گرما گرمي سے بچاليا جس کي توقع کي جارہي تھي ۔ کہنے والے تو بہت کچھ کہہ رہے ہيں ايک صاحب تودور کي کوڑي لائے اور فرمايا  ميں تو پہلے ہي کہتا تھا پيپلز پارٹي حکومت کے ساتھ ملي ہوئي ہے اور جہاں اس کا داو چلتا ہے ساري اپوزيشن کو بيچ ڈالتي ہے۔ پیچ ۴ ايوان سے باہر اپوزيشن پھر گرم ہے  اور جواب ميں حکومتي رہنما اور وزرا کا رويہ اپوزيشن سے بھي زيادہ جارحانہ ہے ۔ بظاہر لگتا ہے کہ ملک ميں جاري سياسي جنگ کا يہ معرکہ حکومت نے سر کرليا ہے اور اپوزيشن دفاعی پوزیشن پرآگئی ہے۔ سماء

PTI

KHURSHEED SHAH

London Flats

Tabool ads will show in this div