وزیراعظم کااحتساب نہ ہوا توسڑکوں پرہونگے،عمران خان

khan-640x426

اسلام آباد: تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان نے قومی اسمبلی میں اظہارخیال کرتےہوئے جمہوریت کو بہترین سسٹم قراردیا۔ انھوں نے اعلان کیاکہ اگروزیراعظم صحیح احتساب کے لیے نہیں پیش ہوئے تو ہمارا جمہوری حق ہے کہ سڑکوں پر نکلیں گے۔ انھوں نے اپنا ایجنڈا ملک کو کرپشن سے پاک کرنا ٹہرایا۔

قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے تقریر کے آغاز میں جمہوریت کو بہترین سسٹم  قرار دیا۔ انھوں نے تقریر کے شروع میں ہی جمہوریت کے حوالے سے کہاکہ جتنی بہترین جمہوری ہوگی، ملک ترقی کرے گا۔ انھوں نے کہاکہ پاکستان کو مدینہ کی ریاست کو ماڈل بنانا چاہئے، وہاں آمریت نہیں تھی۔

اپنی سیاست کے حوالے سے عمران خان گویا ہوئے کہ میرے مخالفین نے الزام لگایا تھاکہ عمران خان زکوة کے پیسہ سے 1997 میں انتخابی مہم چلارہا تھا۔ انھوں نے اپنے اوپر عائد الزامات مسترد کرتے ہوئے کہاکہ ان باتوں میں کوئی حقائق نہیں۔ عمران خان نے حکومت سے سوال کیاکہ اگر میں غلط طریقے سے اسپتال چلارہا تھا تو یہ تو حکومت میں تھے،وہ تفتیش کرتے۔

پاناماپیپرزپرخلفشارحکومت اوروزراء نےخودپیداکئے،خورشیدشاہ

انھوں نےکہا ہم نے پاناما پیپرز پر حکومت سے سوال کئے تو انھوں نے شوکت خانم اسپتال کو نشانہ بنانا شروع کردیا۔ عمران خان نے اعتراض کیاکہ دھاندلی پر تنقید کرو تو جمہوریت کو خطرہ ہونے کی باتیں شروع ہوجاتی ہیں۔1997 میں جمہوریت دھاندلی کے باعث ڈی ریل ہوئی۔ انھوں نے کہاکہ وزیراعظم کو چاہئے کہ وہ کرپشن کا جواب دیں۔

عمران خان نے وزیراعظم کی تقریر کو تنقید کانشانہ بناتے ہوئے کہاکہ ایوان کے سامنے غلط بیانی بہت بڑا جرم ہے۔ وزیراعظم 6 ہفتے پہلے جواب دیتے تو صورتحال خراب نہیں ہوتی۔ اگر وزیراعظم ٹی او آرز پر جواب نہیں دیتے تو ہم احتجاج کے لیے سڑکوں پر ہونگے۔

انھوں نے وزیراعظم پر تنقید کی کہ میاں صاحب اپنے لیے ایک اسپتال بھی نہیں بنواسکے۔ وزیراعظم جواب دینے کے بجائے سب کو کرپٹ کہہ رہے ہیں۔ آپ کو کرپشن اس وقت یاد آتی ہے جب دوسرے اس کا نام لیتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ سنہری موقع ہے کہ جمہوریت مضبوط کی جائے۔

سرکاری و نجی ٹی وی نے تمام تقاریر براہ راست نشر کی

انھوں نے کہاکہ  جمہوریت کا دفاع عوام کرتی ہے فوج نہیں۔ خدا کے لیے جمہوریت کو بچائیں۔پاناما پیپرز کے حوالے سے عمران خان کا کہنا تھاکہ ان کا نام تو پاناما پیپرز میں نہیں آیا اور پاناما پیپرز کی ویب سائٹ میں بھی ان کا نام نہیں۔

عمران خان نے بتایا کہ 1971 سے 1976 تک کاؤنٹی کرکٹ کھیلی۔ 1976 میں ایک ٹیسٹ کھیلنے کے 3ہزار روپے ملتے تھے۔ انھوں نے تسلیم کیاکہ 1983 میں لندن میں فلیٹ خریدا تھا جس کا سب کو معلوم ہے اور اس فلیٹ کو کبھی نہیں چھایا۔ انھوں نے بتایاکہ کیری پیکر سیریز سے بھی انھوں نے پیسہ کمایا۔ان کا کہنا تھاکہ میاں نواز شریف کو بھی اس فلیٹ کا پہلے بتاچکا تھا۔اس فلیٹ کو 2003 میں بیچ دیا گیا۔ ان کا کہنا تھاکہ فلیٹ بیچ کر یہ پیسہ پاکستان لےکر آیا۔ انھوں نے بتایاکہ ان کا سارا پیسہ ان کے اپنے نام پر ہے۔انھوں نے دعوی کیاکہ ان پر کبھی میچ فکسنگ کا الزام نہیں لگایاگیا۔ انھوں نے واضح کیاکہ عمران خان وہ واحد کپتان تھا جو 1986 میں پہلی بار نیوٹرل امپائر لے کرآیا۔

انھوں نے شوکت خانم اسپتال کو بھی احتساب کےلیے پیش کیا۔ انھوں نے چیلنج کیاکہ اسپتال کا اکاؤنٹ سب کے سامنے ہیں۔ اگر میں پیسے کا بھوکا ہوتا تو اسپتال نہیں بناتا۔شوگرمل اور فاؤنڈری بھی بناسکتا تھا مگر میں نے اسپتال بنایا۔عمران خان نے مزید بتایاکہ نیازی سروسز کو کبھی نہیں چھپایا۔

 ان کا کہنا تھاکہ جو بھی ٹی اوآرز بنیں گے،اس میں بھی اسپتال کا نام ڈالیں۔ عمران خان نےچینلج کیاکہ دنیا کا کوئی ایسا کینسر اسپتال بتادیں جہاں 70 فیصد علاج مفت ہوتا ہے۔ انھوں نے واضح کیاکہ کینسر ، دل کی بیماری سے بڑا موزی مرض بن چکا ہے۔ ملک میں ہرساتواں شخص اس مرض میں مبتلاہے۔

عمران خان نے واضح کیاکہ میں پارلیمنٹ کے سامنے ہوں اور جوابدہ ہوں۔ عمران خان نے مزید بتایاکہ  انھیں 1987 اور 1992 میں دو پلاٹس انعام میں ملے تھے جنھیں وہ شوکت خانم اسپتال کے لیے عطیہ کرچکے ہیں۔ انھوں نے مزید کہاکہ کرکٹ سے انھیں دو گاڑیاں بھی ملیں جن کو انھوں نے اسپتال کو دے دیا۔

عمران خان نےکہاکہ وزیراعظم نے جو تقریر کی ان کو اس پر ہی استعفی دے دینا چاہئے تھا۔ ٹیکس گوشواروں میں مریم صفدرکو نوازشریف کی زیرکفالت بتایا گیا جب کہ مریم صفدر دو کمپنیوں کی مالک نکلیں۔انھوں نےکہاکہ وزیراعظم نے بتایا کہ 10 ارب روپے ٹیکس دیا ہے ۔ عمران خان نے نکتہ اٹھایا کہ اس دس ارب میں سے8 ارب توجی ایس ٹی تھا،جوعوام دیتی ہے۔

عمران خان کی تقریر کے دوران حکومتی بنچوں سے آوازیں بلند ہوئیں تو انھوں نے واضح کیاکہ ہم نے بھی وزیراعظم کی تقریر آرام سے سنی تھی۔ اگر ہم شور شرابہ کرتے تو وزیراعظم تو لکھی تقریر نہیں پڑسکتے، وہ کیسے بول لیتے۔  سماء

PTI

IMRAN KHAN

national assembly session

Panama leaks

panama papers

off shore companies

shoukat khanum hospital

Tabool ads will show in this div