تگڑے ہوجاؤ ۔۔۔۔

2

پانامہ پيپرز کی دوسری قسط جاری ہوچکی ہے، مشکلات ميں گھری حکومت نے کچھ مخالفين کے نام اس فہرست ميں آنے پر سکھ کا سانس ليا ہے، سابق ڈپٹی وزيراعظم چوہدری پرويز الٰہی کے صاحبزادے مونس الٰہی کی آف شور کمپنی سامنے آئی تو چوہدری صاحب نے اسے حکومت کی سازش سے تعبير کيا اور فرمايا کہ ان کے بيٹے کا نام حکمرانوں نے پانامہ پيپرز ميں ڈلوايا ہے، چوہدری صاحب کی معصوميت ديکھئے جو اتنی بات بھی نہيں سمجھے کہ حکمران اگر اس قابل ہوتے تو پانامہ ليکس کے ليک ہونے سے پہلے اپنا نام  فہرست سے نہ نکلوا ليتے۔

2a

حکومت بھی چوہدريوں کو اس ايشو پر معاف کرنے کو تيار نہيں اور طويل عرصے تک چوہدری برادران کے ساتھ اقتدار کے مزے لينے والے دانيال عزيز "بے ديد" ہوکر اس معاملے ميں پيش پيش ہيں، کہتے ہيں چوہدريو تگڑے ہوجاؤ، تمھارا نام اب سب سے پہلے ہے۔

ادھر عليم خان اور عمران خان کے دوسرے قريبی دوست زلفی بھی وضاحتيں پيش کرتے جارہے ہيں اور الزامات جوابی الزامات کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہے۔

2b

عمران خان جلسوں ميں حکومت کو لتاڑ رہے ہيں اور اپوزيشن ليڈر خورشيد شاہ اپنے بيانات ميں پانامہ ليکس کی بينڈ بجارہے ہيں اور اصرار کيا جارہا ہے کہ وزيراعظم اسمبلی ميں آکر اپنی اور اپنے خاندان کے اثاثوں کی وضاحت ديں اور تازہ اطلاعات کے مطابق وزيراعظم نواز شريف اس پر رضا مند بھی ہوگئے ہيں۔

ہمارے صحافی بھائی بھی اپنا سودا بيچنے کیلئے خاصے بے تاب رہتے ہيں، آرمی چيف جنرل راحيل شريف ابھی وزيراعظم کے ساتھ ميٹنگ ميں تھے کہ ٹی وی چينلوں کی اسکرينيں سرخ ہوگئيں اور خبريں تھيں کہ وزيراعظم سے آرمی چيف کی ملاقات، امن و امان پر گفتگو، پانامہ ليکس کے معاملے کو جلد نمٹايا جائے۔

ذرائع کے حوالے سے نشر ہونے والی اس خبر ميں بات کا بتنگڑ بنانے ميں ہر کوئی دوسرے پر بازی لے جانے کے چکر ميں تھا، کسی نے يہ جاننے کی کوشش نہيں کی کہ بھائی ملاقات ابھی ہورہی ہے، کوئی شخص باہر نہيں آيا تو اندر کی باتيں بتانے والے وہ ذرائع کونسے ہيں۔

2c

آخر کار حکومت نے اس ملاقات کی فوٹو اور ساتھ خبر جاری کی جس سے پتہ چلا کہ يہ آرمی چيف اور وزيراعظم کی ون آن ون ملاقات نہيں تھی بلکہ امن و امان کی صورتحال پر ايک اجلاس تھا جس ميں پاک فوج کے سپہ سالار، آئی ايس آئی کے ڈی جی، وزيراعلیٰ پنجاب شہباز شریف، وزير داخلہ چوہدری نثار علی خان اور وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار بھی شريک ہوئے۔

جاری کی گئی خبر ميں يہ تنبيہ بھی کی گئی کہ ذرائع کے حوالے سے بے بنياد خبريں چلا کر سنسنی نہ پھيلائی جائے جس سے صورتحال کافی واضح ہوگئی۔

اور کہتے ہيں نہ کہ تصويريں بولتی ہيں، اس تصوير ميں بھی ہنستے مسکراتے چہرے بول رہے ہيں کہ کم از کم پانامہ ليکس کے معاملے پر اس اجلاس ميں کوئی ٹينشن والی بات نہيں ہوئی۔

PM

RAHEEL SHARIF

pervez ilahi

PanamaLeaks

PanamaPapers

Monis Ilahi

Oppositino

Chohadry Brothers

Shujaat Hussain

Tabool ads will show in this div