ضمنی الیکشن کوآئینی تحفظ دینیکی کوشش،قائمہ کمیٹی میں20ویں ترمیم منظور

اسٹاف رپورٹ
اسلام آباد : حکومت کی جانب سے تیئس حلقوں میں ضمنی الیکشن کو آئینی تحفظ دینے کی کوشش جاری ہے۔


قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف نے بیسویں آئینی ترمیم کی منظوری دے دی ہے۔ کمیٹی نے ووٹر لسٹوں کے معاملے پر چیئرمین نادرا کو کل طلب کر لیا ہے۔

قائمہ کمیٹی کا اجلاس چیئرپرسن نسیم اختر چوہدری کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا۔ اجلاس میں نون لیگ کےارکان شریک نہیں ہوئے۔ کمیٹی نے بیسویں آئینی ترمیم کی منظوری دے دی۔

بل کے تحت آئین کے آرٹیکل دو سو اٹھارہ ٹو بی میں ترامیم کی جائیں گی اور نامکمل الیکشن کمیشن کے زیر اہتمام ہونے والے تیئس ضمنی انتخابات کو تحفظ دیا جائے گا۔ مستقبل میں غیر مکمل الیکشن کمیشن کے تحت ہونے والے انتخابات کو آئینی تحفظ نہیں ہوگا۔

سیکریٹری الیکشن کمیشن نے کہا کہ سیاسی جماعتوں نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ووٹر لسٹوں کے معاملے پر جبر نہ کیا جائے، الیکشن سیاست دانوں نے لڑنا ، ججوں نے نہیں۔


انتخابی فہرستیں بنانا الیکشن کمیشن کا کام ہے،اس میں کوئی عدالت مداخلت نہیں کر سکتی،الیکشن کمیشن کا کام ہے کہ وہ جس طرح چاہے ووٹر لسٹیں بنائے۔

انہوں نے کہا کہ مئی کے آخر تک کمپیوٹرائزڈ ووٹر لسٹیں بن جائیں گی۔ اگلے ماہ کے آخر میں ابتدائی لسٹیں بن جائیں گی۔


سیکریٹری الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے تیس دنوں میں ووٹر لسٹیں مکمل کرنے کا حکم دیا جو انسانی طور پر ممکن نہیں تھا۔

فیصلہ پر عمل درآمد کے سبب بے ہنگم ووٹر لسٹیں بنیں۔ وفاقی وزیر نوید قمر نے کہا کہ سپریم کورٹ کو کس معاملہ پر اختیار ہے۔ اس کا فیصلہ بھی سپریم کورٹ میں ہونا ہے۔


اس فورم پر یہ باتیں نہ کی جائیں ۔ ضمنی انتخابات کو تحفظ دینے کے لیے قانون میں ایک مخصوص مدت مقرر کر دی جائے۔ سماء

jundullah

myanmar

hezbollah

questions

promise

Tabool ads will show in this div