کیا یہاں سیلفی لینا ضروری ہے؟

May 13, 2016

hajj selfie

تحریر: شہباز احمد

آج کل حج اور عمرے کی ادائیگی کے لئے آنے والے زائرین مسجد الحرام اور مسجد نبوی میں ہر طرف سیلفیاں لینے اور سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے میں مصروف نظر آتے ہیں۔۔ ایک زمانہ تھا جب مسجد الحرام اور کعبۃ اللہ کے طواف کے دوران تصاویر بنانے کو معیوب سمجھا جاتا تھا اور کیمرے لے جانے پر پابندی تھی۔ اگر کوئی کیمرہ لے جانے کی کوشش کرتا بھی تو شرطے اسے باہر ہی روک لیتے، لیکن اب ایسا نہیں۔ کیمرے والے موبائل فونز کے عام ہونے کی وجہ سے انہیں کسی بھی جگہ لے جانا آسان ہے۔ دنیا بھر سے مسلمان حج پر جاتے ہیں تو سب کے پاس سمارٹ فون ہوتے ہیں۔ ان میں سے بعض اس سے حجر اسود کو بوسہ دیتے ہوئے، سعی اور طواف کرتے ہوئے سیلفیاں بنانا بھی ضروری سمجھتے ہیں ۔ بعض حضرات تو ان سیلفیوں کے اس حد تک شائق ہوتے ہیں کہ لگتا ہے وہ حج یا عمرے پر صرف اپنی تصاویر بنانے کے لئے گئے ہیں۔ گزشتہ چند سال میں مسجد الحرام کے احاطے میں سیلفیاں بنانے کا رجحان وبا کی شکل اختیار کرچکا ہے۔ حج اور عمرے کے دوران زائرین کی ایک بڑی تعداد طواف کعبہ کرتے ہوئے سیلفیاں بناتے، ویڈیو کال کرتے یا ویڈیوز بناتے ہوئے نظر آتی ہے۔

hajj 3

تیزی سے فروغ پاتے اس رجحان سے نئے تنازعات بھی جنم لینے لگے اور اسے شدید تنقید کا نشانہ بنایا جانے لگا ہے۔ اسی بنا پر سعودی علما نے حج و عمرے کی ادائیگی کے دوران تصاویر بنانے اور سوشل میڈیا پر اپ ڈیٹس دینے کو شرعی طور پر ممنوع قرار دے دیا ہے۔علما کا موقف ہے کہ مناسک حج کے دوران سیلفیز یا تصاویر پر توجہ عبادت میں اخلاص کی نفی کے مترادف ہے۔ مساجد یا مقامات مقدسہ کو تفریحی مشاغل کے لئے استعمال کرنے کا جواز نہیں۔ مساجد کو ذکر خدا وندی کے سوا کسی دوسرے مقصد کے لئے استعمال کرنا شرعاً حرام ہے۔

hajj 5 علما کے فتوے کی جہاں بہت سے لوگوں نے حمایت کی ہے وہیں بہت بڑی تعداد اس پابندی کو بلاجواز قرار دے رہی ہے۔ حج سیلفیز کی حمایت میں بعض لوگوں کا موقف ہے کہ اگر دوران حج تصاویر لینے پر کوئی پابندی نہیں تو سیلفیز پر تنقید کیوں ؟ یہ موقع زندگی میں ایک ہی بار ملتا ہے، اس خوش قسمت لمحے کو ہمیشہ کے لئے یادگار بنانے میں کوئی مضائقہ نہیں ۔ سیلفیز کو درست قرار دینے والے کہتے ہیں کہ دوستوں اور اہلخانہ کے ساتھ تصویریں شیئر کرنا انہیں مقامات مقدسہ کے بارے میں بتانا ہوتا ہے۔ سیلفیز کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں۔

hajj 4 دوسری جانب فتوے کو درست قرار دینے والوں کی رائے ہے کہ ہم حج پر اپنی خودی قربان کرنے کے لئے جاتے ہیں، اس کے اظہار کے لیے تو نہیں۔ ہمیں وہاں اپنے نفس اور انا کو قربان کرنا چاہیے۔ سیلفیاں بنانے کا شوق دراصل نرگسیت کا مظہر ہے جس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ یہ فرد کس حد تک خودپسندی کا شکار ہے۔ ان کا موقف ہے کہ اپنے بیگ گراؤنڈ میں کعبۃ اللہ یا کسی اور مقام مقدسہ کو دکھا کر ہم کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں۔۔ اگر تصاویر صرف یادگار کے طور پر بنائی جاتی ہیں تو ٹھیک لیکن اگر اس کا مقصد دوسروں کو دکھانا اور اپنی عبادت کی تشہیر کرنا ہو تو اس کی دین میں ممانعت ہے۔ بعض اوقات رش میں آپ کی توجہ سیلفی لینے پر ہو تو ایک ہجوم آپ کو روند کر آگے نکل سکتا ہے۔ ماضی میں شیطان کو کنکریاں مارنے کے دوران حجاج کے آزادانہ بہاؤ میں رکاوٹ کی وجہ سے بھگدڑ کے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔

hajj 6

اس بحث میں پڑے بغیر کہ حج کے دوران اس طرح فون کا استعمال درست ہے یا غلط، یہ بات یقینی ہے کہ اس سے دوسرے لوگ متاثر ہوتے ہیں اور اپنی عبادت میں دھیان بھی بٹتا ہے۔ بلاشبہ وہ انسان بہت خوش نصیب ہوتا ہے جسے اللہ کی چوکھٹ پر حاضری کا شرف حاصل ہوتا ہے۔ اوربیشتر کو تو زندگی میں ایک ہی دفعہ یہ سعادت حاصل ہوتی ہے۔ اس لئے مقدس سرزمین پر گزارا گیا ایک ایک لمحہ قیمتی ہوتا ہے۔ یہاں اللہ تعالی سے براہ راست کنکشن بنانے اور روح کو پاک کرنے کا بہترین موقع ہوتا ہے۔ اس دوران زیادہ سے زیادہ نیکیاں سمیٹنے کی کوشش کرنی چاہیئے۔ عبادت میں اخلاص پیدا کرنے، خشوع وخضوع اختیار کرنے کی طرف توجہ دینی چاہیئے۔ اللہ کے حضورگڑ گڑا کر اپنے گناہوں کی معافی مانگنی چاہیئے۔ زائرین کی پوری توجہ صرف اور صرف ایک ہی مقصد پر ہونی چاہیئے۔ ایسے کاموں سے اجتناب برتنا چاہیئے جس سے خودنمائی یا دکھاوا ظاہر ہو۔ رب کا قرب حاصل کرنے کے لئے حج کو اس کی روح کے مطابق ادا کرنا چاہیئے۔

hajj selfies