اسرائیل کی ایرانی جوہری تنصیبات پر حملے کی دھمکی

یورینیم افزودگی کی صلاحیت میں اضافے پر کارروائی ہوسکتی ہے، اسرائیلی فوجی سربراہ

اسرائیل نے ایک بار پھر ایران کی جوہری تنصیبات پر بڑے حملے کی دھمکی دیدی۔ وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے قومی سلامتی کے مشیر نے ایران کی نئی زیر زمین جوہری تنصیب کی کھدائی سے پیدا ہونیوالے کسی بھی فوری خطرے کو خارج از امکان قرار دیدیا۔

امریکا اور یورپی ممالک کے ایران سے جوہری معاملات پر مذاکرات میں پیشرفت نہیں ہوسکی، تاہم اسرائیل طویل عرصے سے ایران کی جوہری تنصیبات کیخلاف کارروائی کی دھمکیاں دے رہا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اگر سفارتکاری کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوتا تو وہ طاقت کا سہارا لے گا۔

اسرائیل کی مسلح افواج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ہرزی حالیوی نے سیکیورٹی سے متعلق ایک کانفرنس میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے یورینیم کو افزودہ کرنے کی صلاحیت میں پہلے سے کہیں زیادہ اضافہ کرلیا گیا، اب افق پر منفی پیشرفت ہورہی ہے اور یہ (فوجی) کارروائی کا باعث بن سکتی ہے۔

حالیوی نے اسرائیل کے اتحادی امریکا کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس صلاحیتیں ہیں اور دوسروں کے پاس بھی صلاحیتیں ہیں۔

ایران نے جوہری بم کی تیاری سے انکار کیا ہے اور کسی بھی حملے کا تباہ کن بدلہ لینے کا وعدہ کیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے خبر دی تھی کہ ایران زغرس کے پہاڑوں میں ایک نئی زیر زمین تنصیب تعمیر کررہا ہے، یہ تنصیب جولائی 2020ء میں ہونے والے دھماکے اور آگ کی زد میں آنیوالے نطنز کے قریب یورینیم سینٹری فیوجز مینوفیکچرنگ مرکز کا متبادل ہوگی۔

ایران نے مذکورہ واقعہ کے بعد 2021ء میں اعلان کیا تھا کہ وہ اپنے کچھ سینٹری فیوجز مینوفیکچرنگ ہالز کو ’’نطنز کے قریب پہاڑی مرکز‘‘ میں منتقل کرنے پر کام کررہا ہے، اس علاقے میں ایرانی انجینئرز طویل عرصے سے کھدائی کا کام کررہے ہیں۔

Iran

ISRAELI ATTACK

تبولا

Tabool ads will show in this div

تبولا

Tabool ads will show in this div