عدالت نے نقیب اللہ قتل کیس کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا

شکوک و شبہات کا فائدہ ملزم کے حق میں جاتا ہے، تحریری فیصلہ

کراچی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے نقیب اللہ قتل کیس کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔

تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ عدالت کی نظر میں استغاثہ کیس ثابت نہیں کرسکی، مقدمے میں شکوک و شبہات پائے گئے لہذا ملزمان کو بری کیا جاتا ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ یہ اصول ہے کہ قاضی کی غلطی سے سزا دینے سے بریت بہتر فیصلہ ہے، عدالت کی نظر میں استغاثہ کیس ثابت نہیں کر سکی اس لیے ملزمان کو بری کیا جاتا ہے۔

نقیب اللہ محسود قتل کیس کا تحریری فیصلہ 42 صفحات پر مشتمل ہے جس کے مطابق عدالت نے راؤ انوار سمیت 18 ملزمان کو مقدمے سے بری کیا ہے جبکہ 7 مفرور ملزمان کے دائمی وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے۔

مزید پڑھیے: نقیب اللہ قتل کیس؛ راؤ انوار سمیت تمام ملزمان بری

دوسری طرف نقیب اللہ محسود کے بھائی عالم شیر نے کہا نقیب کے خون پر سودے بازی نہیں کریں گے۔ عالم شیر کا کہنا تھا کہ 3 بار جے آئی ٹی نے ملزمان کوگناہ گارقرار دیا،ملزمان کی طرف سے دھمکیاں،پیسوں کی آفرکی گئیں،کہا گیا منہ مانگی قیمت ملے گی اس کیس سے نکال دو مگر جب تک نقیب کوانصاف نہیں ملتاپیچھے نہیں ہٹیں گے۔

Sindh Police

Naqeeb ullah case

Tabool ads will show in this div