تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کا ہنگامی اجلاس

ارکان کا پارلیمانی پارٹی اجلاس کے بعد پارلیمنٹ ہاؤس جانے کا بھی امکان

پارلیمنٹ میں واپسی سے متعلق تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کا ہنگامی اجلاس ہوا، جس کے بعد تمام ارکان پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گئے۔

پارلیمنٹ میں واپسی سے متعلق تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کا ہنگامی اجلاس طلب کیا گیا، جس میں قومی اسمبلی کے لیے اپوزیشن لیڈر مقرر کرنے پر بھی مشاورت کی گئی۔

پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس شاہ محمود قریشی کی زیرصدارت خیبر پختون خوا ہاؤس میں ہو، جس میں اسد عمر، فواد چوہدری، عمر ایوب، زرتاج گل، عامرڈوگر اور دیگر شریک ہوئے۔

اجلاس میں پی ٹی آئی نے اپنی اگلی حکمت عملی طے کی، اجلاس میں بات کرتے ہوئے رہنما پی ٹی آئی فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ آج اجلاس میں حکومت کو نئے چیلنجز دیں گے، حکومت کی ویسے ہی بس ہوئی ہوئی ہے، ایک دو دھکے اور لگنے ہیں یہ دیوار گرنے والی ہے۔

شاہ محمود قریشی کی سربراہی میں پی ٹی آئی کے ارکان اسپیکر چمبر پہنچ گئے، تاہم ان کے پہنچنے سے پہلے ہی سیکرٹری قومی اسمبلی طاہر خان لاہور روانہ ہوگئے، اور اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف بھی چیمبر میں موجود نہیں تھے۔

پارلیمنٹ ہاؤس کے باہرمیڈیا سے بات کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ اسپیکر نےثابت کردیا وہ ایوان کے کسٹوڈین نہیں، اسپیکر نے کہا تھا کہ تسلی کروں گا کسی نے دباؤ میں استعفیٰ تو نہیں دیا، انہوں نے ہمارے 81 استعفے منظور کیے، ہمارے باقی ارکان موجود ہیں ان کے استعفے بھی منظورکریں۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ آج اسپیکر نے غیر آئینی کام کیا، ہم نے پارلیمنٹ آنے کا فیصلہ کیا تو اسمبلی اجلاس ملتوی کردیا گیا، ہم اسپیکر کا انتطار کر رہے ہیں، ہماری ایک ہی خواہش ہے نئے انتخابات ہوں۔

اسد قیصر کا کہنا تھا کہ ہمیں پارلیمنٹ کے اندر جانے نہیں دیا گیا، اسپیکر کا رویہ انتہائی قابل مذمت ہے انہوں نے خود کہا تھا کہ اسمبلی آئیں۔

اسد قیصر نے کہا کہ اسپیکر نے کہا تھا کہ آپ لوگ ایک ایک کرکے آئیں پھر استعفے منظور ہوں گے، پھر کیسے 35 مزید استعفے منظور کیے گئے، ہم یہاں سارے ایم این ایز اپنا استعفی دینے آئے ہیں، ہم چاہتے ہیں ہمارے 125 استعفی منطورکریں، ہم نگران حکومت کو نہیں مانیں گے۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ہم بے بس اور لاچار پارلیمنٹ کے سامنے کھڑے ہیں، اسپیکر بتائیں کہاں ہیں ہمارے 18 ایم ین ایز جو آپ سے رابطے میں تھے، ہمارے 81 ایم این ایز کے استعفی منطور ہوچکے، ہم چاہتے ہیں ہمارے استعفی منظور کیے جائیں۔

فواد چوہدری نے کہا کہ اسپیکر قومی اسمبلی کی کوئی حیثیت نہیں ہے، پاکستان ڈیفالٹ کی طرف جارہا ہے۔

IMRAN KHAN

Tabool ads will show in this div