چنیوٹ کا تاریخی عمر حیات محل جو مکینوں کا مدفن بن گیا

محل تعمیر کرانے والے سمیت کسی کو یہاں رہنا نصیب نہ ہوا

آج ہم آپ کو ايک ايسے محل کی کہانی سنائيں گے جسے آباد کرنے کی کوشش ہوئی تو وہ مقبرہ بن گيا۔

دریائے چناب کے کنارے واقع پنجاب کا شہر چنیوٹ لکڑی کے پیچیدہ فرنیچر، فن تعمیرات اور مساجد کے لیے مشہور ہے اور عمر حیات محل اس شہر کا خاصا سمجھا جاتا ہے۔

عمر حیات محل لکڑی کے خوبصورت کام سے مزین حویلی ہے جو چنیوٹ کے رختی محلہ میں واقع ہے۔

اس محل کو چنیوٹ کے مشہور تاجر شیخ عمر حیات نے اپنی بيوی اور بيٹے کے ليے تعمیر کرایا تھا، اس عالیشان محل کی تعمیر 17 سال کا وقت لگا، 5 منزلہ محل ميں ايک تہہ خانہ بالائی منزلوں ميں 20 کمرے بنائے گئے۔

اس عمارت میں چنیوٹ کے مقامی لکڑی کے کام کی نمایاں مثال ہے اور اس کے اندرونی حصے میں خوبصورت لکڑی کا کام اس عمارت کو اس عہد کی دیگر تعمیرات سے نمایاں بناتا ہے، اس حویلی کی تعمیر 1923 میں شروع کی گئی تھی جو 1935 میں مکمل ہوئی۔

شیخ عمر 19 ویں صدی کے آخر میں چنیوٹ سے کلکتہ ہجرت کر کے اپنے خاندان کی مرضی کے خلاف شادی کرنے پر بے دخل ہوئے تھے، شیخ عمر کے بیٹے گلزار کی پیدائش 1920 میں ہوئی، جب شیخ عمر نے اپنے آبائی شہر واپس جانے کا فیصلہ کیا جہاں انہوں نے ایک ایسا شاندار محل تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا جس میں چنیوٹ کی بہترین کاریگری نظرآئی۔

مگر جس نے یہ محل تعمیر کروایا نہ وہ یہاں رہ سکا نہ ہی اسکے بیوی بچوں کو یہاں رہنا نصیب ہوا، شیخ عمر حیات محل مکمل ہونے سے 6 ماہ پہلے ہی دنیا سے رخصت ہوگئے، جس کے بعد ان کی مسز واپس کلکتہ چلی گئيں۔

اس محل کیلئے لکڑی ميانمار سے امپورٹ کی گئی، ٹائلز اٹلی اور جاپان سے لائے گئے، لوہے کا کام اسوقت کے ہندوستان کے ٹاپ کے کاريگروں نے کيا، برکس ورک کی مثال پورے علاقے ميں نہيں ملتی۔

ايک سال بعد شیخ عمر حیات کی اہلیہ فاطمہ اپنے بیٹے کی شادی کے ليے چنيوٹ واپس آگئیں، افسوس کي بات يہ ہے کہ سہاگ رات کو گلزار دم گھٹنے سے باتھ روم ميں مردہ حالت ميں پايا گيا، والدہ نے گلزار کي قبر محل ميں ہي بنوائی، ايک سال روتی دھوتی گزاری اور ايک سال بعد فاطمہ کا بھی انتقال ہوگيا۔

يہ محل مدتوں خالی اور سونا پڑا رہا اور لوگوں کا اس محل کے حوالے سے خوف بڑھتا چلا گیا، شيخ فيملی کے ممبران سوچتے تھے کہ يہ محل ہانٹڈ ہاؤس ہے يا اس ميں چڑيلوں کا قبضہ ہے جس نے ہمارے عزيزوں کي جان لی ہے۔

گلزار اور فاطمہ کی موت کے بعد شيخ فيملی کے کسی ممبر نے محل پر ملکيت کا دعویٰ نہيں کيا، خالی محل کو عارضی طور پر يتيم خانہ بناديا گيا، يتيم خانے کی منتقلی کے بعد 30 برس تک يہ محل خالی رہا۔

1990 ميں اُس وقت کے ڈپٹی کمشنر جھنگ عطا طاہر اور اسسٹنٹ کمشنر چنيوٹ ڈاکٹر امجد ثاقب نے ٹيک اوور کيا اور مرمتی کام کرواکر ايک لائبريری بنادی، 1990 سے اب تک ميونسپل کارپوريشن چنيوٹ اس کی يوٹيليٹيز کا کام کررہی ہے۔

آج اس محل ميں لوگ کتابيں پڑھتے ہيں مگر يہاں کے در و ديوار ايک داستان لکھ چکے جو رہتی دنيا تک ياد رہے گی۔

South Punjab

chiniot

Omer hayat palace

Tabool ads will show in this div