کراچی چڑیا گھر میں سوا 4 کروڑ روپے کے ٹھیکوں میں مبینہ کرپشن

ایڈمنسٹریٹر کے ایم سی، میٹرو پولیٹن کمشنر اور سینئر ڈائریکٹر کراچی چڑیا گھر کو نوٹس جاری

کراچی چڑیا گھر میں سوا 4 کروڑ روپے کے ٹھیکوں میں مبینہ کرپشن سامنے آئی ہے۔

سندھ ہائی کورٹ میں کراچی چڑیا گھر میں سوا 4 کروڑ روپے کے ٹھیکوں میں مبینہ کرپشن کیس کی سماعت کے دوران سب سے زیادہ بولی دینے والے کو ٹھیکہ نہ دینے کے خلاف ایک اور درخواست دائر کردی گئی۔

درخواست گزار کریم علی نے عدالت میں مؤقف پیش کیا کہ 6 جون 2022 کو ٹھیکوں کے لئے اشتہار شائع کیا گیا، میں نے داخلہ فیس وصولی کیلئے سب سے ذیادہ 8 لاکھ روپے کی بولی دی۔

درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ ٹھیکے کے حصول کیلئے ضمانتی رقم بھی بینک کے ذریعے جمع کرادی گئی، لیکن تمام ضابطوں کو پورا کرنے کے باوجود ٹھیکہ منظوری کا لیٹر جاری نہیں کیا گیا، اور دوسرے فریق کو غیر قانونی طور پر ٹھیکہ دیا گیا۔

درخواست گزار نے استدعا کرتے ہوئے کہا کہ مالی بحران کے باعث جانوروں کی غذا اور دیگر سہولیات بھی مہیا نہیں کی جا رہیں، کے ایم سی کو فوری ٹھیکہ منظوری کا لیٹر جاری کرنے کا حکم دیا جائے۔

عدالت نے ٹھیکہ جاری کرنے کے خلاف حکم امتناع میں توسیع کردی، جب کہ ایڈمنسٹریٹر کے ایم سی، میٹرو پولیٹن کمشنر اور سینئر ڈائریکٹر کراچی چڑیا گھر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سینئر ڈائریکٹر چڑیا گھر کو ٹھیکے کا مکمل ریکارڈ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

karachi zoo

Tabool ads will show in this div