ریکوڈک ریفرنس؛ سپریم کورٹ نے نیا ریکوڈک معاہدہ قانونی قرار دے دیا

ریکوڈک معاہدے سپریم کورٹ کے 2013 کے فیصلے کے خلاف نہیں، سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے ریکوڈک ریفرنس پر رائے کا اظہار کردیا۔

رواں برس 18 اکتوبر کو صدر مملکت عارف علوی نے ریکوڈک معاہدے پرریفرنس سپریم کورٹ بھیجا تھا، جس میں عدالت سے عظمیٰ سے دو سوالوں پر رائے مانگی گئی تھی، اور سپریم کو رٹ نے ریفرنس پر 29 نومبر کو رائے محفوظ کی تھی۔

مزید پڑھیں؛ انتظامات مکمل کرنے کیلئے 15 دسمبر ڈیڈ لائن

سپریم کورٹ نے ریکوڈک سے متعلق ریفرنس کا محفوظ فیصلہ سنا دیا ہے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ریکوڈک ریفرنس میں دو سوالات پوچھے گئے، آئین عوامی اثاثوں کو باضابطہ طریقہ کار کے تحت ہی ڈسپوزآف کرنے کو یقینی بناتا ہے، آئین خلاف قانون قومی اثاثوں کے معاہدے کی اجازت نہیں دیتا۔

سپریم کورٹ نے اپنی رائے میں کہا ہے کہ معدنی وسائل کی ترقی کے لیے سندھ اور خیبرپختونخوا حکومت نے قانون سازی کی ہے، قانون میں تبدیلی سندھ اور خیبرپختونخوا کا حق ہے، اور صوبے معدنیات سے متعلق قوانین میں تبدیلی کرسکتے ہیں۔

سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ تمام ججز کا متفقہ فیصلہ ہے، جب کہ بین الاقوامی ماہرین نے عدالت کی معاونت کی، نئے ریکوڈک معاہدے میں کوئی غیر قانونی بات نہیں اور یہ معاہدہ سپریم کورٹ کے 2013 کے فیصلے کے خلاف بھی نہیں، ماہرین کی رائے لے کر ہی وفاقی و صوبائی حکومت نے معاہدہ کیا، جب کہ معاہدے سے پہلے بلوچستان اسمبلی کو بھی اعتماد میں لیا گیا اور اسمبلی کو بھی معاہدے سے متعلق بریفنگ دی گئی۔

مزید پڑھیں؛ ریکوڈک پراجیکٹ سے متعلق سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس دائر

سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ ریکوڈک معاہدہ ماحولیاتی حوالے سے بھی درست ہے، بیرک کمپنی نے بھی یقین دلایا ہے کہ تنخواہوں کے قانون پر مکمل عمل ہوگا، اور مزدوروں کے حقوق کا مکمل خیال رکھا جائے گا، اور معاہدے کے مطابق زیادہ تر لیبر پاکستان کی ہوگی۔

عدالت نے کہا ہے کہ ریکوڈک معاہدہ فرد واحد کیلئے نہیں پاکستان کیلئے ہے، ریکوڈک منصوبے سے سوشل منصوبوں پر سرمایہ کاری کی جائے گی، اور کمپنی کے وکیل نے یقین دہانی کرائی ہے کہ اسکل ڈویلپمنٹ کے لیے منصوبے شروع کیے جائیں گے، پاکستان میں براہ راست سرمایہ کاری کے لیے قانون بنائےجائیں۔

صدر مملکت کا ریفرنس

ریفرنس پر سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بنچ نے کی تھی، اور ریفرنس پر 29 نومبر کو رائے محفوظ کی تھی۔

18 اکتوبر کو صدر مملکت نے وزیراعظم کی ایڈوائس پر آئین کے آرٹیکل 186 کے تحت سپریم کورٹ میں ریفرنس دائر کیا تھا، جس میں عدالت عظمی سے دو سوالوں پر رائے مانگی تھی۔

سپریم کورٹ سے رائے ماضی کے عدالتی فیصلے کے تناظر میں مانگی گئی ہے کیونکہ بین الاقوامی کمپنی نے معاہدے میں قانونی تحفظ کی شرط رکھی تھی۔

مزید پڑھیں؛ سپریم کورٹ نے ریکوڈک معاہدے اور صدارتی ریفرنس پر سوالات اٹھا دیئے

ریفرنس میں عدالت عظمیٰ سے پہلا سوال ہے کہ کیا سپریم کورٹ کا مولوی عبدالحق بلوچ بنام فیڈریشن آف پاکستان میں فیصلہ ملکی آئین، قوانین یا عوامی پالیسی سے متعلق وفاقی اور صوبائی حکومت کو ریکوڈک معاہدوں میں داخل ہونے سے روکتا ہے۔

دوسرا سوال یہ ہے کہ اگر مجوزہ غیر ملکی سرمایہ کاری کےتحفظ اور فروغ کابل نافذ کیا جاتا ہے، تو کیا وہ درست اور آئینی ہوگا؟۔

رواں سال مارچ میں وزیر خزانہ کی سربراہی میں ایپکس کمیٹی اور ٹیتھیان کاپر کمپنی نے ریکوڈک پراجیکٹ کے تصفیے اور بحالی کے لیے ایک فریم ورک پر اتفاق کیا تھا۔

وفاقی کابینہ نے 30 ستمبر کےاجلاس میں سپریم کورٹ میں ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی تھی۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے رواں ماہ ریکوڈک منصوبے پر سپریم کورٹ میں ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی تھی

Tabool ads will show in this div