بلوچستان ہائیکورٹ کے حکم کے باوجود اعظم سواتی کی رہائی کھٹائی میں پڑگئی

سییٹراعظم سواتی کیخلاف بلوچستان میں 5 مقدمات درج تھے

بلوچستان ہائیکورٹ کے حکم کے باوجود پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر اعظم سواتی کی رہائی کھٹائی میں پڑ گئی۔

وندر اور لسبیلہ میں اعظم سواتی کے خلاف مزید 2 ایف آئی آر درج ہیں، ایف آئی آر ختم کیے بغیر اعظم سواتی کی رہائی ممکن نہیں۔

بلوچستان ہائیکورٹ نے آج جمعہ کو سینیٹر اعظم سواتی کیخلاف صوبے میں درج تمام مقدمات ختم کرکے رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔

تحریک انصاف کے رہنما سینیٹراعظم سواتی کیخلاف بلوچستان میں 5 مقدمات درج تھے۔

سینیٹر اعطم خان سواتی کو پاک فوج کے سینئر افسران کے خلاف نازیبا ٹوئٹس کرنے کے معاملے پر حراست میں لیا گیا تھا۔

ریاستی اداروں کے خلاف ٹوئٹس کرنے پر پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی ) کے سینیٹر اعظم سواتی کو بلوچستان پولیس نے جمعہ دو دسمبر کو گرفتار کیا تھا۔

گرفتاری کے بعد بلوچستان پولیس سینیٹر اعظم سواتی کو کوئٹہ لے گئی تھی۔ پی ٹی آئی رہنما اعظم سواتی کے خلاف کچلاک پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کیا گیا۔

مقدمہ عزیز الرحمان نامی شہری کی جانب سے درج کرایا گیا تھا جس میں پیکا 2016 کی دفعہ 20 اورپاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 131، 504، 500، 501، 505 اور 109 شامل تھیں۔

فرسٹ انفارمیشن رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اعظم سواتی نے راولپنڈی میں تقریر کے دوران پاک فوج کے خلاف غلط زبان استعمال کی، اور پاک فوج کے خلاف لوگوں کو اکسایا۔

ایف آئی آر میں مزید کہا گیا ہے کہ ٹوئٹر پر بھی اعظم سواتی نے پاک فوج کے خلاف غلط زبان استعمال کی۔ ایف آئی آر میں شکایت کنندہ کا کہنا تھا کہ ذمہ دار شہری ہوں، اعظم سواتی کے خلاف کارروائی کی جائے۔

senator azam swati

Balochistan Highcourt

Tabool ads will show in this div