اسلام آباد میں سیکڑوں عمارتوں کے غیرقانونی استعمال کا انکشاف

قواعد کی خلاف ورزی سے قومی خزانے کو 25 کروڑ کا نقصان

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 488 عمارتوں کےغیرقانونی استعمال کا انکشاف ہوا ہے۔

شہر میں کہیں رہائشی عمارتوں میں ہاسٹلز، کہیں سکول، اکیڈمیز، دفاتر ، ریستوران یا گیسٹ ہاؤسز تو کہیں صنعتی پلاٹوں میں تجارتی کاروبار ہورہا ہے۔

اسلام آباد میں 488 عمارتوں کا قواعد کے خلاف استعمال جاری ہے مگر قومی خزانے کو 25 کروڑ نقصان کے باجود سی ڈی اے سوئی رہی۔

آڈٹ رپورٹ کے مطابق بلڈنگ ریگولیشنز 2005 کی کھلی خلاف ورزی پر جون 2022 تک سی ڈی اے نے کسی عمارت کو جرمانہ کیا اور نہ ہی کوئی عمارت سیل کی گئی۔

قواعد کے خلاف عمارتوں کی پہلی سزا 5 لاکھ روپے جرمانہ ہے۔جرم ثابت ہونے کے 15 دنوں کے اندر اضافی جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔3 ماہ بعد عمارت کو سیل یا خالی کروانا لازمی ہے۔

رپورٹ کے مطابق آڈٹ حکام نے جولائی 2021 میں عمارتوں کے غیر قانونی استعمال کی نشاہندہی کی۔ وفاقی ترقیاتی ادارے کے شعبہ بلڈنگ کنٹرول نے جرمانے کی عدم وصولی کا جواب دیا نہ ہی بار بار کی درخواستوں کے باوجود متعلقہ ڈیپارٹمنٹ کا اجلاس بلایا گیا۔

اسلام آباد

cda

Tabool ads will show in this div