خاتون صحافی کا قتل؛ الجزیرہ نے اسرائیلی فوج کیخلاف عالمی عدالت میں مقدمہ درج کرادیا

انٹرنیشنل کرمنل کورٹ میں شیریں ابو عاقلہ کے قتل کے شواہد پیش

الجزیرہ میڈیا نیٹ ورک نے اپنی خاتون رپورٹر شیریں ابو عاقلہ کے قتل کا مقدمہ انٹرنیشنل کرمنل کورٹ میں اسرائیلی فوج کے خلاف درج کرادیا۔

الجزیرہ نیٹ ورک نے انٹرنیشنل کرمنل کورٹ میں اسرائیلی فورسز کے ہاتھوں شیریں ابو عاقلہ کے قتل کے شواہد بھی پیش کردئیے، الجزیرہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ عدالت میں پیش کیے گئے شواہد اسرائیلی حکام کے ان دعوؤں کو رد کر دیتے ہیں کہ فلسطینی صحافی کراس فائر میں ہلاک ہوئی تھیں۔

الجزیرہ کے ساتھ 25 سال سے وابستہ شیریں رواں سال 11 مئی کو جنین کیمپ میں اسرائیلی فورسز کے چھاپے کے دوران رپورٹنگ کرتے ہوئے اسرائیلی فورسز کی گولی کانشانہ بنی تھیں، انہوں نے بلٹ پروف جیکٹ اور حفاظتی ہیلمٹ بھی پہن رکھا تھا جس پر لفظ ”پریس“ واضح لکھا ہوا تھا۔

الجزیرہ میڈیا نیٹ ورک نے ایک بیان میں کہا کہ الجزیرہ کی جانب سے جمع کرائے گئے نئے شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ شیریں اور اس کے ساتھیوں پر اسرائیلی قابض فورسز نے براہ راست فائرنگ کی تھی۔

الجزیرہ کے وکیل روڈنی ڈکسن کے مطابق آئی سی سی کو بھیجی گئی درخواست الجزیرہ اور فلسطین میں صحافیوں پر وسیع حملے کے تناظر میں پیش کی گئی ہے جس میں 15 مئی 2021 کو نیٹ ورک کے غزہ دفتر پر حملے کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔

وکیل نے کہا کہ شیریں ابو عاقلہ پر فائرنگ سوچا سمجھا قتل ہے، استغاثہ قاتلوں کی نشاندہی کے لیے تفتیش کرکے ان کے خلاف الزامات عائد کرے، الجزیرہ کو امید ہے کہ آئی سی سی اس معاملے کی تحقیقات شروع کردے گا۔

Al Jazeera

Israeli forces firing

Shireen Abu Akleh's killing

PALESTINIAN JOURNALIST

Tabool ads will show in this div