راولپنڈی کے قبرستان کے نیچے بنے غاروں میں رہنے والے مکین

غار محلہ میں پردیسی محنت کشوں کئی دہائیوں سے مفت رہائش ہیں

راولپنڈی میں ایک ایسا قبرستان بھی ہے جس کے نیچے غار اور اس میں لوگ بستے ہیں۔

قبرستانوں میں لوگ اپنے مُردوں کی تجہیز و تکفین یا کسی پیارے کی قبر پر فاتحہ پڑھنے کے لیے آتے ہیں، لیکن راولپنڈی میں ایک ایسا قبرستان بھی ہے جہاں اوپر قبریں اور نیچے غاروں کی صورت میں گھر بنے ہوئے ہیں۔

راولپنڈی کے علاقے ڈھوک حسو کا ’’غار محلہ‘‘ جہاں زیر زمین غار نما گھر ہی نہیں بلکہ یہ محلہ زیر قبرستان بھی ہے، یہاں رہائش پذیر افراد کے گھروں کی چھتوں پر قبرستان ہے، جب کہ قبروں کے نیچے زندہ انسان بستے ہیں۔

ملک کے چوتھے بڑے شہر کے غار محلہ میں پردیسی محنت کشوں کئی دہائیوں سے مفت رہائش ہیں، لیکن یہ غار محلہ نالہ لئی کے راستے میں آتا ہے اور بارشوں کے دنوں میں جب نالہ لئی بپھرتا ہے تو یہ محلہ اجڑ جاتا ہے۔

اس محلے میں کچھ لوگ ایبٹ اباد، کچھ ہری پور اور کچھ ٹیکسلا کے ہیں اور تقریبا 30 سے 35 سالوں سے یہاں رہ رہے ہیں اور یہ بہت غریب لوگ ہیں، لیکن ان کے دل بڑے ہیں، کیوں کہ جب یہ لوگ اپنے آبائی علاقوں میں لوٹتے ہیں تو اپنا غار گھر نئے مکینوں کو مفت دے جاتے ہیں۔

غار کے اندر اور نالے کے پاس رہنے والے مکینوں کو بجلی، پانی اور گیس کی کوئی سہولت میسر نہیں۔ اور ان کا کہنا ہے کہ ہم لوگ غربت کی وجہ سے پریشان اور ایسی رہائش سے بہت تنگ ہیں، بارش اور نالہ لئی کا پانی آتا ہے اور سب بہا کر لے جاتا ہے لیکن مجبوری ہے، بجلی نہ ہونے کی وجہ سے ہم مٹی کا تیل جلاتے ہیں لیکن وہ بھی ابھی بہت مہنگا ہے۔

جدید اور ترقی یافتہ دور میں پتھر کے زمانے جیسی یہ زندگی ماضی کی داستان ہی بیان نہیں کررہی بلکہ مستقبل کے مسائل کا بھی عندیہ دے رہی ہے، یہاں رہنے والے غریب افراد کہتے ہیں کہ قبرستان کے نیچے اور غار میں رہنے ڈر تو لگتا ہے لیکن پھر سوچتے ہیں کہ ہم نے بھی اسی مٹی میں جانا ہے، کیوں کہ قبریں تو یہی پیغام دیتی ہیں کہ ’‘ دیکھو مجھے جو دیدہ عبرت نگاہ ہو ’‘۔

qabristan

Rawalpindi grave yard

Tabool ads will show in this div