خراب مالی حالات بتاتے ہوئے عامر خان رو پڑے

مجھے اپنی فلم میں پرفیکشن نہیں جادو چاہیے، عامر خان

بالی ووڈ کے سپر اسٹار عامر خان بچپن میں اپنے گھر کے حالات بتاتے ہوئے رو پڑے۔

بھارتی یو ٹیوب چینل پر نشر ہونے والے انٹرویو کے دوران عامر خان نے کہا کہ لوگوں میں ان کے بارے میں بہت سی غلط فہمیاں تھیں کہ وہ بہت متمول گھرانے سے ہیں۔ لوگ سمجھتے تھے کہ اگر ان کے والد فلم پروڈیوسر ہیں تو ان کی مالی حالت بہت اچھی ہوگی لیکن حقیقت میں ایسا نہیں تھا۔

عامر خان نے کہا کہ جب وہ 10 سال کے تھے تو ان کے خاندان کو کافی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے والد نے فلم بنانے کے لیے سود پر قرض لیا تھا وہ فلم 8 سال تک نہ بن سکی۔ یہ کہتے ہوئے عامر بہت جذباتی ہوگئے اور کچھ دیر کے لیے انٹرویو چھوڑ دیا۔

تھوڑی دیر بعد وہ واپس آئے اور انٹرویو کا دوبارہ آغاز کیا تو انہوں نے کہا کہ میں ابا جان کی حالت دیکھ کر بہت پریشان ہو جاتا تھا کیونکہ وہ بہت سادہ آدمی تھے، انہیں قرض نہیں لینا چاہیے تھا، ان کی کئی فلموں میں کامیاب ہوئیں لیکن وہ ہمیشہ تنگ دست ہی رہے، جن لوگوں سے انہوں نے پیسے لیے تھے ان سب کے فون آتے تھے۔ اس وقت ابا ان سب سے کہا کرتے تھے کہ میں کیا کروں، میرے پاس پیسے نہیں ہیں، میری فلم پھنس گئی ہے۔ مجھے ابا کو اس حالت میں دیکھ کر بہت برا لگتا تھا۔

عامر خان نے کہا کہ ان کے والد نے قرض کا ایک ایک روپیہ واپس کردیا ، تنگ دستی کے دوران بھی ان کے اسکول کی فیس ہمیشہ وقت پر ادا کی جاتی تھی۔ ان کی والدہ جان بوجھ کر ان کے لیے لمبی پتلونیں خریدتیں تاکہ وہ انہیں زیادہ دیر تک استعمال کر سکیں۔

مسٹر پرفیکشنسٹ ہونے کے حوالے سے عامر خان نے کہا کہ لوگ سوچتے ہیں کہ میں بہت سوچ کر فلمیں کرتا ہوں، یہ بالکل بکواس بات ہے، میں پہلے سوچ کر فیصلے کرتا تھا اور اس میں غلطیاں ہوتی تھیں ، اب میں صرف اپنے دل سے فیصلے کرتا ہوں۔

عامر خان نے کہا کہ اگر میرا دل کرتا ہے کہ میں تارے زمین پر بنانی ہے، میرا دماغ کہتا ہے کہ یہ ایک حماقت ہے، یہ چلنے والی فلم نہیں لیکن میں بناتا ہوں، مجھے جادو (میجک) چاہیے پرفیکشن نہیں۔

AAMIR KHAN

Bollywood actor

Tabool ads will show in this div