دھمکیاں اور مذاکرات ایک ساتھ نہیں ہوسکتے،ن لیگ

عمران خان کی کوئی شرط قبول نہیں

پاکستان مسلم لیگ نواز (ن) کے سینیر رہنما سعد رفیق کا کہنا ہے کہ دھمکیاں اور مذاکرات ایک ساتھ نہیں ہوسکتے، ہمارے اتحادیوں کو مذاکرات پر شدید تحفظات ہیں، مذاکرات عمران خان کی ضرورت ہے، ہماری نہیں۔

لاہور میں وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ہونے والے اہم اجلاس کے اختتام پر مشترکا پریس کانفرنس سے خطاب میں ن لیگی رہنما اور وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ شہباز شریف کی میثاق معیشت کی پیشکش کا مذاق بنایا گیا، طعنے کے باوجود ہم نے قانون سازی میں ساتھ دیا، چار برس اس شخص نے فرعونیت دکھائی، ماضی میں بھی غیر رسمی رابطے ہوئے ہیں، تاہم اگر آپ مذاکرات چاہتے ہیں تو فیصلہ پی ڈی ایم کرے گی۔

سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش پر ن لیگی رہنما نے کہا کہ مذاکرات کا عمل سیاست کا حصہ ہے، ہم الیکشن سے ڈرتے ہیں، یہ خام خیالی ہے، ہم سمجھتے ہیں اسمبلیاں تحلیل کرنا اچھا عمل نہیں، تاہم دھمکیاں اور مذاکرات ایک ساتھ نہیں ہوسکتے، ہمارے اتحادیوں کو مذاکرات پر شدید تحفظات ہیں، سمجھتے ہیں مذاکرات سے پیچیدہ مسائل کا حل نکلتا ہے۔ پہلی بار الیکشن نہیں لڑنا، ساری زندگی یہی کیا، الیکشن آیا تو لڑیں گے، مگر انتخابات وقت پر اور شفاف ہونے چاہیے۔ اسمبلیاں تحلیل کیں تو خان صاحب بے آسرا آپ نے ہونا ہے، ہم نے نہیں۔

پریس کانفرنس سے خطاب میں وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا کہ عمران خان کی کوئی شرط قبول نہیں۔ تیسری قوت کو یہ 6 ماہ سے گالیاں دے رہا ہے۔ اس عمل میں کسی تیسری قوت کی ضرورت نہیں، ہم یہ کرسکتے ہیں۔

ن لیگی رہنماؤں کے مطابق عمران خان نے پونے 4 برس اپوزیشن سے ہاتھ تک نہ ملایا، اب ان کے جھوٹ کا چورن نہیں بکنا، عمران خان کی کال پر لوگ نہیں نکلیں، جب ہی فرسٹریشن پر اسمبلیاں توڑنے کا کہا۔

انہوں نے دو ٹوک لہجے میں سابق وزیراعظم کا باور کراتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی مشروط مذاکرات کی پیشکش کیساتھ دھمکی قبول نہیں، غیر مشروط مذاکراتے چاہتے ہیں تو آئیں بیٹھیں مل کر بات کریں۔

Tabool ads will show in this div