گورنر راج کی آرٹیکل 232 میں گنجائش بنتی ہےنہ 234 میں ہے، رہنما پی پی پی

یہ کوئی بادشاہت تھوڑی ہےکہ ایسے جا کر اسمبلی توڑ دیں، رہنما پیپلزپارٹی

پیپلزپارٹی کے رہنما لطیف کھوسہ کا کہنا ہے کہ کسی صوبے میں گورنر راج کا کوئی امکان نہیں، اور اس کی آرٹیکل 232 میں گنجائش بنتی ہے نہ 234 میں ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے پیپلزپارٹی کے رہنما بیرسٹر لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ کسی صوبے میں گورنر راج کا کوئی امکان ہے ہی نہیں، اس کی آرٹیکل 232 میں گنجائش بنتی ہے نہ 234 میں ہے، اور وہاں کوئی جنگ کی صورتحال ہے نہ ہی گورننس کا معاملہ ہے۔

لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ یہ کوئی بادشاہت تھوڑی ہے کہ ایسے جا کر اسمبلی توڑ دیں، ایسا کچھ کیا بھی گیا تو عدالت اٹھا کر باہر پھینک دے گی گورنر راج نہیں لگ سکتا۔

رہنما پیپلزپارٹی نے کہا کہ وزیراعلیٰ کو اعتماد کا ووٹ لینے کا کہا جا سکتا ہے یا عدم اعتماد آسکتی ہے، ایسا نہ ہوا تو اسمبلیاں تحلیل ہو جائیں گی، تحلیل ہونے پر واضح ہے دونوں اسمبلیوں میں الیکشن کروا دیئے جائیں گے۔

Tabool ads will show in this div