تحریک انصاف کے سینیٹر اعظم سواتی کو تیسری بار گرفتار کرلیا گیا

اعظم سواتی کو ریاستی اداروں کیخلاف ٹوئٹس پر گرفتار کیا گیا ہے

ریاستی اداروں کے خلاف ٹوئٹس کرنے پر پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی ) کے سینیٹر اعظم سواتی کو بلوچستان پولیس نے آج بروز جمعہ دو دسمبر کو گرفتار کرلیا۔

تیسری بار گرفتاری

گرفتاری کے بعد بلوچستان پولیس سینیٹر اعظم سواتی کو کوئٹہ لے گئی۔ پی ٹی آئی رہنما اعظم سواتی کے خلاف کچلاک پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کیا گیا۔

مقدمہ عزیز الرحمان نامی شہری کی جانب سے درج کرایا گیا ہے، جس میں پیکا 2016 کی دفعہ 20 اورپاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 131، 504، 500، 501، 505 اور 109 شامل ہیں۔

فرسٹ انفارمیشن رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اعظم سواتی نے راولپنڈی میں تقریر کے دوران پاک فوج کے خلاف غلط زبان استعمال کی، اور پاک فوج کے خلاف لوگوں کو اکسایا۔

ایف آئی آر میں مزید کہا گیا ہے کہ ٹوئٹر پر بھی اعظم سواتی نے پاک فوج کے خلاف غلط زبان استعمال کی۔ ایف آئی آر میں شکایت کنندہ کا کہنا تھا کہ ذمہ دار شہری ہوں، اعظم سواتی کے خلاف کارروائی کی جائے۔

کچلاک پولیس تھانے میں ایف آئی آر کے اندراج کے بعد تفتیشی افسر کے سربراہی میں ٹیم اسلام آباد پہنچی تھی۔ اعظم سواتی کو سیکیورٹی خدشات کے باعث کچلاک پولیس تھانے کی بجائے کوئٹہ کینٹ پو لیس تھانہ منتقل کیا جائے گا۔ بلوچستان پولیس نے اعظم سواتی کو اسلام باد میں اپنے تحویل میں لیا تھا۔

ایف آئی اے کی کارروائی

واضح رہے کہ پی ٹی آئی رہنما اعظم سواتی ایف آئی اے سائبر کرائم کے پاس ریمانڈ پر تھے۔ ایف آئی اے نے اعظم سواتی کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوانے کی استدعا کر رکھی تھی۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ پی ٹی آئی رہنما اعظم سواتی کی جانب سے اعلیٰ ترین عسکری ادارے اور اس کے سربراہ کو دوبارہ 26 نومبر بروز ہفتہ شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے غیر مہذب زبان استعمال کی گئی تھی۔

جس پر ایف ائی اے کرائم سرکل نے اعظم سواتی کیخلاف کارروائی کرتے ہوئے انہیں اتوار 27 نومبر کی صبح اسلام آباد میں چک شہزاد کے فارم ہاؤس سے گرفتار کیا تھا۔

اعظم سواتی کے خلاف ایف آئی اے ٹیکنیکل اسسٹنٹ انیس الرحمان کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا۔ درج مقدمے میں تضحیک اور پیکا ایکٹ کی دفعات شامل کی گئیں۔ سابق وفاقی وزیر کے خلاف مقدمہ پیکا 2016 کی دفعہ 20 اور پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ131، دفعہ 500، دفعہ 501، دفعہ 505 اور دفعہ 109 کے تحت درج کیا گیا تھا۔

درج مقدمے میں اعظم سواتی کی ٹوئٹس کا حوالہ بھی دیا گیا تھا، جس میں بتایا گیا کہ اعظم سواتی نے اپنے ویریفائڈ اکاؤنٹ سے متنازع ٹوئٹس کیں۔ مقدمے میں یہ بھی کہا گیا کہ اعظم سواتی نے اپنے بیان سے فوج کے اندر افسران کو ادارے اور سربراہ کے خلاف اکسانے کی کوشش کی۔

ایف آئی آر میں مزید کہا گیا تھا کہ اس طرح نام لے کر اور الزام عائد کرنے والی اشتعال انگیز ٹوئٹس ریاست کو نقصان پہنچانے کے لیے مسلح افواج کے افسران کے درمیان تفریق پیدا کرکے بغاوت کی شرارت ہے۔

جسمانی ریمانڈ

اعظم سواتی کی جانب سے یہ عمل دوسری بار کیا گیا تھا۔ انہیں 16 اکتوبر کو بھی اسلام آباد ڈسٹرکٹ سیشن کورٹ کے ڈیوٹی مجسٹریٹ شعیب اختر کی عدالت میں پیش کیا گیا تھا جہاں ان کا دوسری بار ایک روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا گیا، جب کہ اس سے قبل بھی عدالت نے ان کا 2 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا تھا۔

پیمرا نے پابندی لگا دی

پیمرا کی جانب سے بھی اعظم سواتی کی تقاریر نشر کرنے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ پاکستان الیکٹرانک میڈیا اتھارٹی (پیمرا) کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق سینیٹر اعظم خان سواتی کی تقاریر، انٹرویوز اور میڈیا ٹاک نشر کرنے پر پابندی عائد کر گئی ہے۔

نوٹی فکیشن میں لکھا گیا کہ اعظم سواتی نے گزشتہ روز راولپنڈی میں ایک جلسے کے دوران تقریر کی جس میں انہوں نے ریاستی اداروں کے خلاف اشتعال انگیز باتیں کرنے کے ساتھ ساتھ بے بنیاد اور من گھڑت الزامات عائد کیے اور ٹی وی چینلز نے بغیر کسی کنٹرول کے وہ تقریر نشر کردی۔

نوٹی فکیشن میں مزید کہا گیا کہ اعظم سواتی کی طرف سے کی گئی نفرت انگیز، تہمت آمیز اور اشتعال انگیز تقریر اور ریاستی اداروں کے خلاف بیانات آئین کے آرٹیکل 19 کی سراسر خلاف ورزی ہے۔

نوٹی فکیشن کے مطابق پیمرا نے گزشتہ روز کی گئی تقریر کا جائزہ لینے کے بعد اعظم سواتی کی تقاریر، انٹرویوز اور میڈیا ٹاک کسی بھی ٹی وی چینل پر نشر کرنے پر پابندی عائد کردی ہے۔

PTI

IMRAN KHAN

LONG MARCH PTI

AZAM SWATI ARREST

Tabool ads will show in this div