کراچی: سفاک باپ نے اپنی 3 بیٹیوں کو کیوں اور کیسے قتل کیا؟

ملزم فواد کا پولیس کو دیا گیا ابتدائی بیان سامنے آگیا

کراچی کے علاقے ملیر میں بیوی اور3 بچیوں کو قتل کرنے والے شخص نے اپنے بیان میں سنسنی خیز انکشافات کئے ہیں۔

انتیس نومبر کی دوپہر کراچی کے علاقے ملیر کی شمسی کالونی کے رہائشی 40 سالہ فواد نے اپنی بیوی اور 3 بچیوں کو چھریوں کے وار کرکے قتل کیا تھا۔

بیوی اور بچیوں کو قتل کرنے کے بعد فواد نے اپنی زندگی کا خاتمہ کرنے کی کوشش کی لیکن وہ بچ گیا۔ فواد نے بیان میں بتایا کہ اس کو اس بات کہ افسوس ہے کہ وہ اب بھی زندہ ہے۔

فواد نے بیوی اور بچیوں کے قتل کا پورا واقعہ اور اس کا پس منظر پولیس کو اپنے بیان میں بتایا ہے۔

فواد نے بتایا کہ ہُما سے اس کی شادی کو 18 برس ہوگئے تھے، ہماری 3 بچیاں تھیں، بڑی بیٹی 16 سال کی تھی، شادی کو اتنا عرصہ گزرنے کے باوجود ہما کو میری اپنی ماں سے محبت برداشت نہیں ہوتی تھی، یہی ہمارے درمیان جھگڑے کی بنیادی وجہ بنتی تھی۔ اس بارے میں بیوی کو بہت سمجھایا لیکن اسے سمجھ نہ آئی۔

پولیس کو دیے گئے بیان میں فواد نے بتایا کہ وہ ایک فیکٹری مین نوکری کے علاوہ اپنا کاروبار بھی کرتا تھا اس میں کچھ لوگوں نے سرمایہ کاری کررکھی تھی۔ کاروبار میں نقصان ہوا تو سرمایہ لگانے والے اپنی رقم کا تقاضا کرنے لگے۔ آئے روز کوئی نہ کوئی ان کے گھر پر آتا اور دھمکیاں دیتا۔

فواد نے بتایا کہ 29 نومبر کی صبح اپنی والدہ کا ہاتھ چوم کر دفتر روانہ ہوا لیکن اس کی بیوی نے حسب معمول اس بات کا ایشو بنا لیا۔ زہنی دباؤ تھا کہ انوسٹرز کو منافع کے ساتھ انوسٹمنٹ کی رقم بھی واپس کرنی ہے۔

اسی لیے واردات کے روز دفتر سے جلد واپس گھر آیا لیکن بیوی نے ایک بار پھر والدہ کو لیکر جھگڑا شروع کر دیا۔

اپنے بیان میں فواد نے بتایا کہ اس کی بیوی جھگڑے کے بعد نہانے چلی گئی۔ اس کو بہت غصہ تھا اور اتنے میں ایک انوسٹر نے اسے کال کی اور رقم کی ادائیگی کے لیے دباؤ دیا اور یہ ہی وہ لمحہ تھا کہ اس نے فیصلہ کیا کہ بیوی بچوں کو قتل کرنے کے بعد خودکشی کر لوں گا۔

فواد نے بیان میں بتایا کہ اس نے اللہ سے اس جرم کی مغفرت کی دعا کی اور پھر اپنی سوئی ہوئی چھوٹی بیٹیوں کو پیار کرنے کے بعد ان کو ذبح کر دیا۔ اس کے بعد بڑی بیٹی جو کہ دوسرے کمرے میں تھی، اس کو بھی چھریوں کے وار سے قتل کیا اور اسی اثنا میں بیوی نہا کر واش روم سے باہر آگئی۔

فواد نے مزید کہا کہ بچیوں اور بیوی کو قتل کرنے کے بعد اس نے ایک انویسٹر کو واٹس ایپ پر خون میں لت پت بچیوں اور بیوی کی تصاویر بھیج دیں اور دوبئی میں مقیم بھائی جس کا نام فراز ہے، کو صورت حال سے آگاہ کرنے کے بعد اپنے گلے پر چھری چلا دی۔

دوسری طرف الفلاح تھانے کے ایس ایچ او بدر شکیل نے سما ڈیجیٹل کو بتایا کہ واقعے کا مقدمہ تاحال درج نہیں ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس نے فواد کے سسرال والوں سے رابطہ کرکے مقدمہ درج کروانے کی درخواست کی ہے اور انہوں نے یقین دہانی کروائی ہے کہ وہ سوئم کے بعد واقعے کا مقدمہ اپنی مدعیت میں درج کروائیں گے۔

انوسٹرز سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے تفتیشی افسر کا کہنا تھا کہ فواد نے تحریری بیان میں انوسٹرز کا ذکر کیا ہے لیکن پولیس نے کسی بھی انوسٹر کو بیان کے لیے طلب نہیں کیا۔

ضلع کورنگی کے ایس ایس پی انوسٹی گیشن ابریز علی عباسی نے بتایا کہ فواد نے بیان میں چند انوسٹرز کا ذکر کیا ہے لیکن کسی کا نام نہیں بتایا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک اوپن اینڈ شٹ کیس ہے جس میں ملزم نے نا صرف اعتراف جرم کیا ہے بلکے اس نے قتل کی وجوہات اور طریقہ واردات بھی بتایا ہے۔

ایس ایس پی کے مطابق مقدمہ درج ہونے کے بعد ملزم کے بیان، شاہد اور حالات و واقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے تحقیقات کی جائیں گی۔

murder case

Karachi Police

Tabool ads will show in this div