طبی سہولتوں کی فراہمی اور جان بچانے والی سرجری کے تعطل کا خدشہ

معاملہ سنگین بحران کی طرف جا سکتا ہے، ہیلتھ کیئر ڈیوائسز ایسوسی ایشن

میڈیکل اور سرجری کے آلات اور مشینری کی امپورٹ میں درپیش مسائل کی وجہ سے طبی سہولتوں کی فراہمی کے سنگین بحران کا خدشہ ہے۔

ہیلتھ کیئر ڈیوائسز ایسوسی ایشن آف پاکستان نے خبردار کیا ہے کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان کی جانب سے طبی آلات کی رجسٹریشن کو لازمی قرار دینے کے بعد امپورٹ پالیسی کو ڈریپ کے سرٹیفیکیٹ سے مشروط کر دیا گیا تھا۔

ترجمان کے مطابق ڈریپ گزشتہ کئی سالوں میں جمع کرائی جانی والی رجسٹریشن کی بیشتر درخواستوں پر کوئی فیصلہ نہیں کر سکا اور اب تک 3 ہزار کے قریب درخواستیں ہی نمٹائی جاسکی ہیں جبکہ پاکستان میں استعمال ہونے والی میڈیکل کی اشیاء کی تعداد 5 لاکھ سے زائد ہے۔

اعلامیے کے مبطابق میڈیکل ڈیوائسز میں لیب ٹیسٹ، سرجری اور اسپتالوں میں استعمال ہونے والے دیگر تمام آلات شامل ہیں۔

میڈیکل ڈیوائسز میں سرنج، کینولا، بلڈ شوگر اور بلڈ پریشر ناپنے والے آلات سے لیکر الٹرا ساؤنڈ، ایکسرے، سی ٹی اسکین اور ایم آر آئی کی مشینری تک شامل ہے جبکہ بغیر میڈیکل ڈیوائسز کے کوئی بھی اسپتال صحت کی سہولت فراہم نہیں کر سکتا۔

ترجمان کے مطابق پاکستان کے اسپتالوں میں استعمال ہونے والی 90 فیصد میڈیکل ڈیوائسز امپورٹ کی جاتی ہیں لہذا امپورٹ رکنے کی وجہ سے اسپتالوں میں صحت کی فراہمی کا عمل رکنے کا شدید اندیشہ ہے۔

ہیلتھ کیئر ڈیوائسز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ڈریپ اور وفاقی محکمہ صحت سمیت دیگر اعلی حکام اسے معاملے سے آگاہ ہیں، اگر فوری طور پر اس مسئلہ کو حل نا کیا گیا تو معاملہ سنگین بحران کی طرف جا سکتا ہے۔

surgery

medical facilities

Dr. Mazhar Iqbal Dec 02, 2022 06:23pm
A very true and alarming situation.
Tabool ads will show in this div