سپریم کورٹ:عمران خان کیخلاف توہین عدالت کی درخواست سماعت کیلئےمقرر

پانچ رکنی لارجر بینچ سماعت کریگا

سپریم کورٹ آف پاکستان میں سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف توہین عدالت کیس کو سماعت کیلئے مقرر کردیا گیا ہے۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ کل 2 دسمبر کو سماعت کرے گا۔

سپریم کورٹ کے جج جسٹس اعجاز الاحسن ، جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی، جسٹس منیب اختر اور جسٹس یحیٰی آفریدی بھی لارجر بینچ کا حصہ ہوں گے۔

سماعت کیلئے عدالت کی جانب سے عمران خان سمیت تمام فریقین کو نوٹس جاری کر دیئے گئے ہیں۔

اس سے قبل وفاقی وزارت داخلہ نے عمران خان کے خلاف توہین عدالت کیس میں مزید شواہد جمع کرائے تھے، وزارت داخلہ کے جمع کرائے گئے شواہد میں مختلف رہنماؤں کی ٹوئٹس، اخباری تراشے اور 25 مئی کے احتجاج کے دوران کے مختلف ویڈیو کلپس شامل تھیں۔

واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے وزارت داخلہ کے ذریعے سپریم کورٹ میں عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کی تھی، جسے سماعت کیلئے مقرر کیا گیا۔

وفاقی حکومت نے 25 مئی کے عدالتی حکم کی خلاف ورزی پر عمران کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کرنے کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

اس سے قبل ہونے والی سماعت میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان کا کہنا تھا کہ اپنے دلائل میں کہا تھا کہ پولیس اور حساس اداوں کی رپورٹس کا جائزہ لیا ہے، پولیس، آئی ایس آئی اور آئی بی رپورٹس پر ہی سب اداروں کا انحصار ہے، عمران خان نے عدالتی حکم کے باوجود ڈی چوک پر جلسے کی کال دی۔

گزشتہ سماعت پر عدالت کی جانب سے عمران خان سے تفصیلی جواب طلب کیا گیا تھا جس پرعمران خان نے مؤقف اپنایا تھا کہ انہیں سپریم کورٹ کے احکامات کا علم ہی نہیں تھا۔

وزارت داخلہ نے عمران خان کے جواب پر مختلف ویڈیو کلپ پیش کیے جس میں عمران خان اور پی ٹی آئی رہنماؤں کو موبائل فون استعمال کرتے دکھایا گیا ہے۔

وزارت داخلہ کے مطابق عمران خان کے ساتھ جیمرز نہیں تھے اس لیے رابطے میں دشواری کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

IMRAN KHAN

CONTEMPT OF COURT

LONG MARCH PTI

Tabool ads will show in this div