سندھ میں ایک سال کے دوران 3500 سے زائد افراد میں ایچ آئی وی کی تشخیص

پاکستان میں ایچ آئی وی پھیلنے کی سب سے بڑی وجہ انجیکشن کی سوئی ہے غیر محفوظ مراسم نہیں، محکمہ صحت سندھ

محکمہ صحت سندھ کے ایڈیشنل ڈائریکٹر کمیونیکیبل ڈیزیز کنٹرول ایچ آئی وی ایڈز ڈاکٹر ارشاد کاظمی نے کہا ہے کہ 2022 میں دس لاکھ سے زائد افراد کا ایچ آئی وی اسٹیٹس معلوم کرنے کے لیے اسکریننگ کی گئی تھی جن میں سے 3 ہزار 515 نئے کیسز رجسٹرڈ ہوئے ہیں اور یوں مثبت کیسز کی شرح صفر اعشاریہ تین چار تین فیصد بنتی ہے۔

سماء ڈیجیٹل سے ایچ آئی وی کے عالمی دن کی مناسبت سے بات گرتے ہوئے ڈاکٹر ارشاد کاظمی نے بتایا کہ اس وقت سی ڈی سی ایچ آئی وی کے پاس سندھ بھر کے 19 ہزار766 ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد رجسٹرڈ ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے ایک تخمینے کے مطابق پاکستان میں ایچ آئی وی مثبت کیسز کی تعداد 2 لاکھ 10 ہزار ہے جن میں سے 50 فیصد پنجاب اور 43 فیصد سندھ میں ہیں۔ 2 لاکھ دس ہزار کا 43 فیصد 90 ہزار 300 بنتا ہے جن میں سے 19 ہزار 766 ہمارے پاس رجسٹرڈ ہیں جو 22 فیصد ہے۔

ڈاکٹر ارشاد کاظمی نے کہا کہ اس کا مطلب ہے باقی لوگ تو اسی معاشرے میں موجود ہیں جنہیں اپنا اسٹیٹس معلوم نہیں یا اگر معلوم ہے تو وہ اسے بدنما داغ سمجھتے ہیں اور اس خوف کی وجہ سے سامنے آنے کو تیار نہیں۔

ہماری کوشش یہی ہے کہ اسکریننگ کو بڑھاکر ایسے لوگوں کو تلاش کیا جائے اور علاج شروع کیا جائے۔ اس لیے ہم جوں جوں اسکریننگ بڑھا رہے ہیں کیسز سامنے آرہے ہیں۔ ظاہر ہے ہم جب ان لوگوں تک پہنچ جائیں گے ان کا علاج شروع ہوجائے گا تو وہ وائرس کو آگے نہیں پھیلائیں گے اور اسی طرح اس پر قابو پا سکتے ہیں۔

ڈاکٹر ارشاد کاظمی نے کہا کہ اس وقت سی ڈی سی ایچ آئی وی کے پاس سندھ بھر کے 19 ہزار 766 ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد رجسٹرڈ ہیں ، سال 2022 میں 10 لاکھ سے زیادہ افراد کی اسکریننگ کی تھی جن میں سے 3 ہزار 515 نئے کیسز رجسٹرڈ ہوئے ہیں اور یوں مثبت کیسز کی شرح صفر اعشاریہ تین چار تین فیصد بنتی ہے۔

ایڈیشنل ڈائریکٹر کمیونیکیبل ڈیزیز کنٹرول کا کہنا تھا کہ پہلے سندھ میں 16 ٹریٹمنٹ سینٹر تھے حال ہی میں مزید ایک ٹریٹمنٹ سینٹر پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت شروع کیا ہے اس طرح اب یہ تعداد 17 ہوگئی ہے۔

ڈاکٹر ارشاد کاظمی نے بتایا کہ ہم نے جو سندھ میں اسکریننگ کی ہے اس میں کوئی ڈرامیٹک قسم کے اعدادوشمار نہیں ہیں۔ سندھ کے 5 لاکھ اے این سی (اینٹی نیٹل کیئر یا حاملہ خواتین ) کی اسکریننگ بھی کی ہے، اس میں مثبت کیسز کی شرح نہ ہونے کے برابر ہے، ایچ آئی وی کے مثبت کیسز ’’کی پاپولیشن‘‘ میں سامنے آرہے ہیں، ان میں بھی منشیات استعمال کرنے والوں کی تعداد زیادہ ہے لیکن ایسا نہیں ہے کہ بیماری عام لوگوں میں زیادہ منتقل ہو رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نوجوانوں سمیت عام لوگوں میں آگہی مہم چلا رہے ہیں، اپر سندھ کے چار اضلاع میں ایک پراجیکٹ شروع کیا ہے جس میں اساتذہ، ہیڈماسٹرز، مذہبی رہنماؤں، گاؤں کی معزز شخصیات، حجام اور جنرل پریکٹشنرز کو اپنی آگہی مہم کا حصہ بنایا ہے تاکہ آگہی دے کر اسٹگما اور ڈسکریمینیشن کو ختم کیا جائے اور یہ بتایا جائے کہ یہ ایک بیماری ہے اور اس کا علاج ممکن ہے۔

ایڈیشنل ڈائریکٹر کمیونیکیبل ڈیزیز کنٹرول کا کہنا تھا کہ ہم نے جامعات میں نوجوانوں میں بھی اسکریننگ کی ہے لیکن وہاں ہمیں مثبت کیسز نہیں ملے البتہ ایسے افراد جن میں غیر معیاری انتقال خون ہوا۔ ان میں کچھ مثبت کیسز ملے ہیں لیکن یہ بھی استعمال شدہ سرنج یا انتقال خون کے سبب ہوا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ نوجوانوں میں بھی اسکریننگ کی وجہ یہ ہے کہ میں منشیات کے استعمال اور سیکس کا رجحان بڑھا ہے۔ چار جامعات میں اسکریننگ کی تھی لیکن وہاں ہمیں کوئی مثبت کیس نہیں ملا اور یہ اسکریننگ بھی رضاکارانہ تھی کوئی زبردستی نہیں کی۔

ڈاکٹر ارشاد کاظمی نے بتایا کہ سندھ میں کچھ علاقے ایسے ہیں جہاں عام لوگوں میں ایچ آئی وی کے کیسز زیادہ ہیں مثال کے طور پر رتو ڈیرے جہاں عام لوگوں میں مثبت کیسز سامنے آئے تھے تو وہاں عام علاقوں کی نسبت کیسز زیادہ ہیں۔

لیکن وہاں بھی بیماری کی جو وجہ ہے وہ غیر معیاری استعمال شدہ سرنجز تھی، اب لاڑکانہ کی صورتحال بہتر ہے ہم نے اسکریننگ کی تعداد بڑھا دی ہے، ہم کمیونٹی کے اندر جا کر اسکریننگ کر رہے ہیں، ہمارا ہدف 50 ہزار افراد ہیں۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ وہاں اتائی پھر واپس آگئے ہیں اور اب بھی یہ خطرہ موجود ہے کہ ان اتائیوں کی وجہ سے دوبارہ ایچ آئی وی پھیل سکتا ہے ، ہم لوگوں کو آگہی دے رہے ہیں کہ وہ اتائیوں کے پاس جانے سے گریز کریں لیکن سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کو ان کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ کی پاپولیشن میں34 سے 38 فیصد ایچ آئی وی کا پھیلاؤ ہے، اس سے انکار نہیں ہے کہ اگر کوئی عام فرد کلائنٹ کی صورت میں ایچ آئی وی سے متاثرہ سیکس ورکرز یا ٹرانس جینڈر کے پاس جا رہا ہے تو وہ برجنگ پاپولیشن ہے جو واپس عام لوگوں میں آتا ہے تو یہ خطرہ برقرار ہے کہ عام لوگوں میں بھی یہ بیماری پھیل سکتی ہے۔

ڈاکٹر ارشاد کاظمی نے بتایا کہ ایچ آئی وی کے پھیلائو میں اتائی، غیر معیاری انتقال خون اور پھر سیکس ورکرز کا اجتماعی کردار ہوتا ہے، میں کسی ایک کو اس کا ذمہ دار نہیں ٹھہراؤں گا لیکن پھر وہی بات کہ عام لوگوں میں ایچ آئی وی کی شرح ایک فیصد سے بھی کم ہے۔

انہوں نے بتایا کہ یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ پاکستان میں ایچ آئی وی پھیلنے کی سب سے بڑی وجہ سرنج کی نیڈل ہے، سیکس نہیں ہے، چاہے وہ اتائی استعمال کر رہا ہو، چاہے وہ کوالیفائیڈ میڈیکل پریکٹشنر استعمال کر رہا ہو، چاہے وہ منشیات کے لیے استعمال ہو رہی ہو۔ ہمارے پاس یہ ڈیٹا موجود ہے کہ اسپتال سے کتنے لوگوں کو ایچ آئی وی منتقل ہوا۔

aids

hiv

Tabool ads will show in this div