شریعت کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر اپیل واپس نہ لینے والے بینکوں کے بائیکاٹ کا عندیہ

اسٹیٹ بینک اور نیشنل بینک کی طرح دیگر کمرشل بینک بھی اپیل واپس لے۔حرمت سود سیمینار کے شرکاء کا مطالبہ

فیڈریشن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے مرکزفیڈریشن ہاوس میں بدھ کو حرمت سود سیمنار کا انقعاد کیا گیا جس میں تمام مکتبہ فکر کے علمائے کرام،بینکار اور سیاسی و کاروباری شخصیات نے شرکت کی۔

سیمینار میں وفاقی شرعی عدالت کے ملک میں سودکے خاتمے کے فیصلے اور اس ضمن میں مختلف معاملات کا جائزہ لیا گیا جب کہ اس موقع پر 5قراردایں بھی پیش کی گئیں۔

موثر اقدامات کا مطالبہ

سیمنار میں پیش کی گئی پہلی قرارداد میں وفاقی وزیر خزانہ کے اس اعلان کا خیر مقدم کیا گیا جس کے مطابق حکومت شرعی عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل واپس لے رہی ہے قرار داد میں مطالبہ کیا گیا کہ اعلان کے بعد ایسے فوری اقدامات بھی اٹھائے جائیں جن سے اس مقصد کی طرف بامعنی پیش رفت واضح طور پر نظر آئے۔

اپیل واپس نہ لینے والے بینکوں کے بائیکاٹ کا عندیہ

قرارداد میں کہا گیا ہے کہ تمام مکاتب فکر کے علماء،دینی تنظیموں اور تاجر برادری کا یہ اجتماع اس بات پر گہری تشویش کا اظہار کرتا ہے کہ اگر چہ اسٹیٹ بینک اور نیشنل بینک نے وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں دائر اپیلیں واپس لینے کا اعلان کردیا ہے لیکن جن پرائیویٹ بینکوں اور مالیاتی اداروں نے اپیلیں دائر کی تھیں انہوں نے ابھی تک وہ اپیلیں واپس نہیں لیں اور ان میں یہ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ بینکوں اور مالیاتی اداروں میں جو سود لیا جاتا ہے وہ ”ربا“کی تعریف میں نہیں آتا۔

قرارداد میں کہا گیا ہے کہ تفصیلی سماعت کے بعد متفقہ فیصلہ آنے پر اپیلیں دائر کرنے کا مطلب اس کے سوا کچھ نہیں کہ اس متفقہ مسئلے کو 31سال کی جدوجہد کے بعد پھر غیر معینہ مدت کے لئے سرد خانے میں ڈالنے کا بہانہ بنایا جائے لہذا تمام مکاتب فکر کے علماء،دینی تنظیموں اور تاجر برادری کا یہ نمائندہ اجتماع مطالبہ کرتا ہے کہ کمرشل بینک بھی اپنی اپیلیں فورا ً واپس لے کر اپنے نظام کو سود سے پاک کرنے کی کوشش میں لگ جائے اگر انہوں نے ایسا نہ تو یہ اجتماع عوام سے اپیل کرنے میں حق بجانب ہوگا کہ وہ ایسے بینکوں اور مالیاتی اداروں کا بائیکاٹ کرییں اور یہ اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کا کم سے کم نتیجہ ہوگا۔

غیر سودی نظام کے لئے ٹاسک فورس قائم کی جائے

قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ وزارت خزانہ میں فوری طور پر غیر سودی نظام قائم کرنے کے لئے مستقل ڈویژن اور اسکے تحت ایک موثر ٹاسک فورس قائم کرے جو ایک عملی نقشہ تیار کرکے مرحلہ وارسود کا خاتمہ کرنے کی مجاز ہو۔قرار داد میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بعض صوبوں میں ایسے قوانین بنائے گئے ہیں جن سے انفرادی سود کی ممانعت کی گئی ہے یہ قوانین پورے ملک میں نافذ کئے جائیں۔

قرارداد کے مطابق بعض ایسے ادارے ہیں جنہیں فوری طور پر سود سے پاک کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے مثلاً این آئی ٹی یونٹ، ہاوس بلڈنگ فنانس کارپوریشن، پنشن فنڈ،سیونگ فنڈاور کنزیومر فنانس ان شعبوں کو بلاتاخیر سود سے پاک کیا جائے۔

قرارداد میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ شرعی تعلیمات کی روشنی میں سود کا متبادل “بیع’’(خرید وفروخت)ہے لیکن موجودہ قوانین بینکوں اور مالیاتی اداروں کو براہ راست بیع اور تجارت سے منع کرتے ہیں ان قوانین پر نظر ثانی کرکے بینکوں اور مالیاتی اداروں پر سے پابندی اٹھائی جائے۔

وفاقی شرعی عدالت کو فعال کرنے کا مطالبہ

قرارداد میں اس بات پر تشویش کا اظہار کیاگیا ہے کہ اس وقت اہم ترین ادارے تقریباً معطل پڑے ہوئے ہیں وفاقی شرعی عدالت میں اس وقت صرف دو جج ہیں اور کوئی عالم دین اس میں شامل نہیں جب کہ شروع میں یہ عدالت سات ججوں پر مشتمل تھی جن میں تین جج علمائے کرام تھے۔اسی طرح سپریم کورٹ کی شریعت اپیلٹ بینچ عرصہ دراز سے تقریباً معطل ہے جس کی وجہ سے بہت سارے اہم مقدمات زیر التواء ہیں اور بینچ کا اجلاس شاز ونادر ہی ہوتا ہے۔قرارداد میں وفاقی شرعی عدالت اور سپریم کورٹ کی شریعت بینچ کو فعال کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے

جوائے لینڈ کی نمائش پر پابندی لگائی جائے

قرارداد میں کہا گیا ہے کہ پارلیمنٹ میں ٹرانس جینڈر ترمیمی بل پیش کیا گیا ہے ہم اس کی تائید کرتے ہیں ایکٹ میں فوری طور پر ترمیمیں نافذ کی جائیں۔جوائے لینڈ نامی فلم کی نمائش پر پابندی لگائی جائے۔

banks

INTEREST RATE

INTERESTING CASE

Tabool ads will show in this div