اعظم نذیر تارڑ کو دوبارہ وزیر قانون کا قلمدان مل گیا

انہوں نے ذاتی وجوہات پر استعفیٰ دیا تھا
<p>فائل فوٹو</p>

فائل فوٹو

پاکستان مسلم لیگ نواز (ن) کے سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کو دوبارہ وزیر قانون کا قلمدان دے دیا گیا ہے، جس کے بعد اياز صادق سے وزير قانون کی اضافی ذمہ دارياں واپس لے لی گئيں۔

کابینہ ڈویژن کی جانب سے بدھ 30 نومبر کو اعظم تارڑ سے متعلق نوٹي فکيشن جاری کرديا گیا ہے۔ وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف نے گزشتہ روز منگل 29 نومبر کو اعظم نذیر تارڑ کا استعفیٰ مسترد کرکے انہیں کام جاری رکھنے کی ہدایت کی تھی۔

نوٹی فکيشن جاری ہونے کے بعد اعظم نذیر تارڑ آج 30 نومبر کو کابينہ اجلاس ميں بطور وزير قانون شريک ہوں گے۔ اعظم نذیر تارڑ نے گزشتہ ماہ چوبیس اکتوبر کو وزیر قانون کے عہدے سے استعفیٰ دیا تھا۔

ذرائع کے مطابق 25 اکتوبر کو اعظم نذیر تارڑ نے عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں متنازع نعرے لگنے کے واقعے کے بعد عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا۔

وزیر قانون، عاصمہ جہانگیر کانفرنس کے مہمان خصوصی تھے جہاں کچھ شرکا نے اپنی تقریر کے دوران متنازع نعرے لگائے تھے۔

صدر مملکت کے نام ہاتھ سے لکھے ہوئے استعفے میں انہوں نے لکھا تھا کہ ذاتی وجوہات کی بنا پر میں بطور وفاقی وزیر اپنی ذمہ داریاں جاری نہیں رکھ سکتا۔ انہوں نے یہ بھی لکھا تھا کہ بحیثیت وفاقی وزیر قانون اپنے ملک کی خدمت کرنا میرے لیے بڑے اعزاز کی بات ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آئین کی دفعہ 92 کی شق 3 کے تحت میں اپنے عہدے سے استعفیٰ دیتا ہوں۔

RESIGNATION

law minister

AZAM NAZEER

Tabool ads will show in this div