کراچی: ماں اور 3 بیٹیوں کا قتل، تفتیش میں سنسنی خیز انکشافات

فواد نامی شخص نے ہی مبینہ طور پر بیوی اور بچوں کو مارا ہے، پولیس

کراچی کے علاقے ملیر میں ایک گھر سے 4 افراد کی لاشیں ملی ہیں۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق پولیس کو بتایا گیا کہ ملیر کی شمسی کالونی کے ایک گھر میں 5 افراد شدید زخمی ہیں جنہیں طبی امداد کی ضرورت ہے۔

پولیس جائے وقعہ پر پہنچی تو دیکھا کہ 4 افراد ہلاک ہوچکے ہیں جب کہ ایک شخص کی حالت انتہائی تشویشناک ہے۔

ایس ایس پی کورنگی ساجد سدوزئی نے کہا ہے کہ جاں بحق ہونے والوں میں ایک خاتون اور3 بچیاں شامل ہیں جب کہ ایک مرد زخمی ہے، تمام افراد کو چھریوں کے وار سے قتل کیا گیا ہے۔

جاں بحق ہونے والوں کی شناخت 40 سالہ ہما زوجہ فواد، 16 سالہ نیہا ولد فواد، 12 سالہ فاطمہ ولد فواد اور 10 سالہ نمرہ ولد فواد کے نام سے ہوئی ہے۔

ساجد سدوزئی نے مزید بتایا کہ زخمی ہونے والے شخص کا نام فواد ہے جو مکان کی پہلی منزل پر اپنے بیوی بچوں کے ساتھ رہتا تھا جب کہ نیچے والدہ اور بھائی رہتے تھے۔

فواد منگل کی صبح معمول کے مطابق اپنی ملازمت پر گیا لیکن دوپہر کے وقت واپس آگیا تھا، جس کے بعد اس کا بیوی سے جھگڑا ہوا۔ فواد کی بیوی کی آواز سنی تو گھر والے اوپر گئے، دروازے کی کنڈی توڑ کر گھر والے اندر داخل ہوئے تو تمام افراد زخمی تھے۔

ایس ایس پی کورنگی نے مزید بتایا کہ چھریوں کے وار کے دوران کسی کی آواز نہ آنا یہ بتاتا ہے کہ شائد مقتولین کو مارنے سے قبل کوئی نشہ آاور چیز دی گئی ہو۔

فواد کو 4 ماہ سے تنخواہ نہیں ملی، پولیس

ملیر کے علاقے شمسی سوسائٹی میں بیوی اور تین بیٹیوں کو قتل کر کے خود کشی کے کیس میں اہم تفصیلات سامنے آ رہی ہیں۔ ایس ایس پی کورنگی ساجد عامر سدوزئی نے سما ڈیجیٹل کو بتایا کہ فواد کو گزشتہ 4 ماہ سے تنخواہ نہیں ملی۔

ایس ایس پی کورنگی کے مطابق فواد کی والدہ نے دعوی کیا کہ اس کے بیٹے نے تنگ دستی کی وجہ سے یہ انتہائی قدم اٹھایا۔ ساجد سدوزئی کے مطابق ہولیس نے فواد کی والدہ کے دعوی پر تحقیقات کیں تو یہ دعوی درست ثابت ہوا۔ تاہم ایس ایس پی کا کہنا تھا کہ فواد نے تنگ دستی کی وجہ سے بیوی اور بچوں کو قتل کیا، اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

واقعہ غیرت کے نام پر قتل بھی ہو سکتا ہے

پولیس کے مطابق ملیر کے علاقے شمسی سوسائٹی میں ایک شخص نے مبینہ طور پر اپنی بیوی اور تین بچیوں کو تیز دھار آلے سے ذبح کرنے کے بعد خود کشی کی ہے۔

لیکن مقتولین کی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق ایسے شواہد ملے ہیں کہ یہ واردات غیرت کے نام پر قتل ہو۔

سما ڈیجیٹل سے بات کرتے ہوئے پولیس سرجن کراچی ڈاکٹر سمعیہ سید نے بتایا کہ مقتولین کے جسم سے قتل سے پہلے زہر خوانی سے متعلق نمونے حاصل کیے گئے ہیں جبکہ جنسی زیادتی کا پتا چلانے کے لیے سیمپل بھی حاصل کیے گئے ہیں۔

ڈاکٹر سمعیہ سید سے جب جنسی زیادتی سے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے جواب دیتے ہوئے بتایا کہ اس بات کا امکان ہوسکتا ہے کہ مقتولین کو ممکنہ طور جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ امکانات ہیں کہ یہ غیرت کے نام پر قتل ہو۔

حکام کے مطابق زہر خوانی اور جنسی تشدد سے متعلق معلوم کرنے کے لیے نمونوں کو جانچ کے لیے لیبارٹری روانہ کر دیا گیا ہے۔

murder case

karachi target killing

Tabool ads will show in this div