کمانڈ کین اور کمان کی تبدیلی

یہ کمانڈ کین ملاکہ کین بھی کہلاتی ہے۔
اپ ڈیٹ 29 نومبر 2022 09:14pm

آج بروز منگل انتیس نومبر کو جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) ( GHQ ) سے ملحقہ ہاکی اسٹیڈیم ( Hocket Stadium ) میں سجنے والی کمانڈ کی تبدیلی کی تقریب میں سبکدوش ہونے والے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نئے آرمی چیف کو کمانڈ کین تھمائی، یہ کمانڈ کین ( Command Cane ) ملاکہ کین ( Malacca) بھی کہلاتی ہے۔

راول پنڈی میں منگل 29 کی صبح بڑی تقریب پر دنیا بھر کی نگاہیں مرکوز تھیں، جہاں سبکدوش ہونے والے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ ( General Qamar Javed Bajwa ) نے نئے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر ( COAS Asim Munir ) کو جنرل ہیڈکوارٹرز ( جی ایچ کیو ) سے ملحقہ ہاکی گراؤنڈ میں نئی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ کمانڈ کین بھی تھمائی۔ جنرل عاصم منیر فور اسٹار جنرل کے شولڈر رینکس اور کالر میڈل لگا کر تقریب میں شریک ہوئے۔

چھڑی کی تیاری

اس چھڑی کی بناوٹ پر غور کیا جائے تو اس میں دو دو انچ کے فاصلے پر گانٹھ ہوتی ہیں، جو دیکھنے میں بانس کی لکڑی کی طرح ہی دکھائی دیتی ہے لیکن اس کے مقابلے خاصی پتلی ہوتی ہے۔ وزن میں ہلکی ہونے کے باوجود یہ چھڑی بہت مضبوط ہوتی ہے۔

کمانڈ اسٹک سنگاپور کے جزیرے ملاکا کے ایک خاص کین سے تیار کی جاتی ہے، ملاکا میں پایا جانے والا پودا رتن پام کی ایک قسم ہے جو انڈونیشیا میں سماٹرا کے ساحل پر بھی پائی جاتی ہے۔

رتن کے درخت میں لمبے، پتلے تنے ہوتے ہیں جو واکنگ ملاکا اسٹکس بنانے کیلئے بہترین سمجھے جاتے ہیں۔

چھڑی کی قیمت

 دنیا بھر کی افواج کے سربراہان اسے کمان اسٹک کے طور پر زیرِ بازو اور کبھی ہاتھ میں اپنی میعاد کے دوران رکھتے ہیں۔ یہ کوئی معمولی اسٹک نہیں ہوتی، اس کی قیمت 10 ہزار پاکستانی روپوں سے بھی زیادہ بتائی جاتی ہے۔

یہ کمانڈ کین یا چھڑی ملاکہ بھی کہلاتی ہے، یہ چھڑی اور اسٹک آف کمانڈ دنیا بھر کی افواج میں ملاکہ کین کہلاتی ہے، یہ ایک خصوصی درخت کی لکڑی جو قیمتی بھی ہوتی ہے، اس سے تیار کی جاتی ہے اور اسے چھڑیوں کا بادشاہ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ چھڑی دنیا بھر کے فوجی افسران کے یونی فارم کا خاص حصہ سمجھی جاتی ہے۔

کمانڈ اسٹک جنرل قمر جاوید باجوہ کی جانب سے نئے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو دیتے ہی پاکستان آرمی کی کمان نئے فوجی سربراہ کو مل گئی، اس دن کی مناسبت سے مختلف آرمی سینٹرز اور یونٹوں میں فرمان امروز پڑھ کر سنایا گیا، جس کا بنیادی متن یہ ہوتا ہے کہ نئے آرمی چیف نے پاک فوج کی کمان سنبھال لی ہے۔

اس موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتطامات کیے گئے، جب کہ اطراف کے علاقوں میں موبائل فون سروس بھی معطل رہی۔ تقریب کے سلسلے میں جی ایچ کیو میں عام تعطیل کا سماں ہوتا ہے، صرف انتہائی ضروری اسٹاف ڈیوٹی پر موجود ہوتا ہے۔ تقریب سے سبکدوش ہونے والے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے الوداعی خطاب بھی کیا۔ یہ ایک خالصتاً فوجی تقریب ہوتی ہے۔

انگریزوں کے دور میں لائی گئی چھڑی اب پاک فوج کی روایت بن چکی ہے، ون اسٹار کے بعد یہ چھڑی ہر افسر کو دی جاتی ہے، اس چھڑی کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ چھڑی ٹوٹ جائے تو اہمیت اپنی جگہ برقرار رہتی ہے اور اس کی جگہ دوسری چھڑی نہیں ملتی۔ پاک افواج میں بریگیڈیئر اور اس سے اوپر والے رینک رکھنے والے افسران کو چھڑی سونپی جاتی ہے، بیٹن کہلانی والی یہ چھڑی عہدے کی ذمہ داریوں کی منتقلی کی علامتی سمجھی جاتی ہے۔

کچھ روایت یہ بھی ہے کہ یہ کین صرف آرمی چیف نہیں رکھتے بلکہ افواج کی تمام پوسٹوں پر تعینات افسروں یعنی کور کمانڈرز اور جی او سی وغیرہ کے یونیفارم کا لازمی حصہ تصور کی جاتی ہے۔

ایسے مواقع جیسے قومی پرچم کو سلامی دیتے ہوئے، گارڈ آف آنر لیتے وقت، پریڈ کا معائنہ کرتے وقت افسران کے پاس کمانڈ کین ہونا لازمی ہوتی ہے، چیف آف آرمی اسٹاف کی صدر مملکت، وزیراعظم یا اہم سیاسی شخصیات سے ملاقات کے وقت کمانڈ کین اور ٹوپی باہر رکھی جاتی ہے، جب کہ آرمی چیف اپنے دفتر میں ملاقات کریں تو کمانڈ کین دفتر کے اندر ہی ایک طرف رکھ دی جاتی ہے،یہ چھڑی مختلف مواقعوں پر ساتھ رکھنے کا مخصوص انداز ہوتا ہے۔

یہاں دلچسپ بات یہ ہے کہ جب جنرل قمر جاوید باجوہ نے جب سال 2016 میں پاک فوج کی کمان سنبھالی تھی تو اس سال 29 نومبر کو بھی منگل کا دن تھا، جب کہ اس سال 2022 میں جب قمر جاوید باجوہ نے 29 نومبر کو کمان کی منتقلی کی تو اس روز بھی 29 نومبر کو منگل کا ہی دن ہے۔ سماء