کیا فٹ بال ورلڈکپ کے میچز دیکھنا جائز ہے؟

مصری دارالافتا کا ناجائز کہنے والے کو جواب

مصری دارالافتا کے فتاویٰ کے سیکرٹری خالد عمران کا کہنا ہے کہ فٹ بال جو کھیلوں میں سے ایک کھیل ہے کے میچ دیکھنا اسلام میں سمجھی جانے والی چیز ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق فٹ بال ورلڈکپ دیکھنے کو ناجائز کہنے والے کو دیے گئے جواب میں مصری دارالافتا کے فتاویٰ کے سیکرٹری خالد عمران نے کہا کہ فٹ بال ایک کھیل کا معاملہ ہے جو جسم اور دماغ کو مضبوط کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ فٹ بال ممنوع نہیں بلکہ مفید ہے اور دوسری ثقافتوں کو جاننے میں اپنا کردار ادا کرتا ہے۔ خالد عمران نے زور دیکر کہا کہ کسی کو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ خدا کی مخلوق کے بارے میں کسی کے بارے میں فیصلہ کر سکے۔

خالد عمران نے کہا کہ جو کوئی بھی زندگی کے کسی بھی شعبے میں کامیاب ہونا چاہتا ہے وہ کامیاب لوگوں کی کہانیاں ضرور دیکھے اور اس سے ان کی مذہب پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔

خیال رہے کہ مصر میں ایک درالافتا کے فتویٰ نے اس وقت تنازعہ کھڑا کردیا جب اس نے فتویٰ دیا کہ ورلڈ کپ کے میچز کو دیکھنا وقت، پیسے اور محنت کا ضیاع ہونے کے باعث ناجائز ہیں۔ اس فتویٰ پر احتجاج کیا گیا تو دارالافتا نے رجوع کرتے ہوئے کہا کہ میچ دیکھنا جائز اور مباح ہے۔

سلفی نور پارٹی کی سینیٹ کے سربراہ ڈاکٹر یونس مخیون کی جانب سے جاری فتویٰ میں انہوں نے کہا کہ فٹ بال کھیلنا وقت اور زندگی کا ضیاع ہے، میچ دیکھنا نامہ اعمال کو خراب کرتا، تصورات کو خلط ملط کرتا اور لوگوں کو اپنے نفع کی چیزوں میں مشغول ہونے سے پھیرتا ہے۔

انہوں نے کمیونیکیشن سائٹس پر اپنے ذاتی پیج پر ایک ویڈیو کے دوران ورلڈ کپ میچ دیکھنے کے حکم کا جواب دیتے ہوئے مزید کہا وقت ایک مسلمان کا سرمایہ ہے، وقت اور گھنٹوں کو ضائع کرنے والوں کا احتساب کیا جائے گا۔

ڈاکٹر یونس مخیون نے کہا کہ فٹ بال میں ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ فٹ بال کے دلدادہ افراد اپنے پسندیدہ کھلاڑیوں کو رول ماڈل کے طور پر لیتے ہیں اور اس پر فخر کرتے ہیں حالانکہ یہ شخص مذہب کا دشمن ہو سکتا ہے تاہم مصری دارالافتا نے فتویٰ پر فیصلہ کن ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ورلڈ کپ کے میچز دیکھنا جائز اور مباح ہے۔

FOOTBALL WORLD CUP 2022

Tabool ads will show in this div