6 ماہ کے کائبور کی شرح ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

مانیٹری پالیسی مزید سخت کئے جانے کا نتیجہ

شرح سود میں اضافے کے بعد بینکوں کے درمیان رقوم کے تبادلے پر منافع کی شرح ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔

اسٹیٹ بینک کی جانب سے ہفتہ کو شرح سود ایک فیصد بڑھائے جانے کے بعد پیر کو انٹر بینک میں کراچی انٹر بینک آفرنگ ریٹ (کائبور) کی شرح میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا خاص طور پر 6 ماہ کے کائبور کی شرح 16.81فیصد کی بلند سطح پر پہنچ گئی جو مانیٹری پالیسی سے قبل 25نومبر کو 15.90 فیصد تھا یعنی پالیسی کے بعد 91بیسس پوائنٹس کا ایک دن میں اضافہ ہوگیا ہے اور اگر رواں مالی سال کے 30 جون کے بعد دیکھا جائے تو یہ اضافہ 148 بیسس پوائنٹس بنتا ہے، 30جون کو چھ ماہ کے کائبور کی شرح 15.33 فیصد تھی۔

واضح رہے کہ بینک آپس میں رقوم کی لین دین جس شرح منافع پر کرتے ہیں وہ کائبور ریٹ کہلاتا ہے یعنی اگر ایک بینک دوسرے بینک سے چھ ماہ کے لئے رقم قرض لیتا ہے تو اسے 16.81فیصد منافع دینا پڑے گا پہلے یہ شرح منافع 15.90فیصد تھا۔جب کوئی شہری بینک سے قرض لینے جاتا ہے تو بینک کائبور ریٹ میں اپنا منافع (اسپریڈ) شامل کرکے وصول کرتا ہے یعنی کائبور ریٹ بڑھنے سے عام شہریوں کے لئے بھی قرض مہنگا ہوجائے گا۔

مانیٹری پالیسی اعلان کے بعد ایک ہفتے کا کائبور ریٹ بھی15.40فیصد سے بڑھ کر16.39فیصد تک پہنچ گیا ہے جب کہ 2ہفتے کا کائبور ریٹ15.47فیصد سے بڑھ کر16.46فیصد اور ایک ماہ کا کائبور 15.60فیصد سے بڑھ کر16.55فیصد ہوگیا ہے۔اسی طرح تین ماہ کا کائبور 15.87 فیصد سے بڑھ کر16.81 فیصد، 9ماہ کا کائبور 17.07 فیصد اور ایک سال کا کائبور 17.09 فیصد کی بلند سطح پر پہنچ گیا۔

عارف حبیب سیکورٹیز کی رپورٹ کے مطابق مانیٹری پالیسی مزید سخت کئے جانے کے فیصلے سے بینکوں کے قرضے مہنگے ہوگئے ہیں جس سے ملکی معاشی ترقی کی رفتار سست پڑ جائے گی تاہم افراط زر کی صورتحال میں قدرے بہتری آنے کی امید ہے۔

inflation

kibor

STATE BANK OF PAKISTAN (SBP)

Tabool ads will show in this div