سیلولر کمپنیوں کی بین الاقوامی تنظیم کا پاکستان سے ٹیکسوں میں کمی کا مطالبہ

جی ایس ایم اے نے زیادہ سرمایہ کاری اور استحکام کیلئے تجاویز بھی دے دیں

دنیا بھر کے گیارہ سو سے زائد موبائل فون آپریٹرز اور کمپنیوں کی بین الاقوامی نمائندہ تنظیم گروپ اسپیشل موبائل ایسوسی ایشن (GSMA) نے ٹیلی کام سیکٹر کے لیے ٹیکسز میں کمی کا مطالبہ کر دیا۔

گروپ اسپیشل موبائل ایسوسی ایشن (GSMA) کی جانب سے وزارت آئی ٹی کو خصوصی طور پر خط لکھا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ بھاری ٹیکسز پاکستان میں معیاری ٹیلی کام سروسز کی فراہمی میں بڑی رکاوٹ ہیں۔

اپنے خط میں گروپ اسپیشل موبائل ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان میں ٹیلی کام سیکٹر میں ٹیکسز سب سے زیادہ ہیں، ٹیلی کام سیکٹر میں 15 فیصد ایڈوانس ٹیکس ختم کیا جائے۔

جی ایس ایم اے نے کہا سروسز اور موبائل کارڈ پر عائد ساڑھے 19 فیصد سلیز ٹیکس صارفین اور ٹیلی کام انڈسٹری پر بوجھ اور ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کی راہ میں رکاوٹ ہے، ٹیلی کام لائسنسز کے حوالے سے غیر ملکی کرنسی ریٹ کی حد مقرر کی جائے، اسپیکٹرم یا لائسنس فیس کی ادائیگیوں کی اقساط کے لئےمدت 10 سال کی جائے۔

فون آپریٹرز اور کمپنیوں کی بین الاقوامی نمائندہ تنظیم نے کہا کہ فیصد ایڈاوانس ٹیکس میں 25 فیصد کمیم کی جائے، 15 فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس کم کرکے 10 فیصد کی جائے، فائبر آپٹک کیبلز پر عائد درآمدی ڈیوٹی میں 50 فیصد چھوٹ دی جائے۔

بین الاقوامی نمائندہ تنظیم نے مطالبہ کیا کہ درآمدی بیٹریوں پر کسٹم ڈیوٹی میں کمی کی جائے۔

MOBILE PHONE

GSMA

Tabool ads will show in this div