ملک بھر کی جیلوں میں کتنے خواجہ سرا قید ہیں، وفاقی شرعی عدالت میں رپورٹ پیش

قانون آنے کے بعد خواجہ سرا کی مرضی کی صنف لکھی جاتی ہے، نادرا حکام
<p>فوٹو:فائل</p>

فوٹو:فائل

نادرا حکام نے ملک بھر کی جیلوں میں قید خواجہ سراؤں کی رپورٹ وفاقی شرعی عدالت میں پیش کردی۔

وفاقی شرعی عدالت میں خواجہ سراؤں کے تحفظ سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، کیس کی سماعت چیف جسٹس وفاقی شرعی عدالت جسٹس سید محمد انور کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے کی۔

دوران سماعت وزارت انسانی حقوق اور نادرا نے ٹرانس جینڈرز سے متعلق اپنی رپورٹس جمع کرائیں۔

نادرا کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ جو خواجہ سرا اپنی جنس منتخب کرتا ہے ہم اس کے مطابق اندراج کر لیتے ہیں، 2012 سے اب تک 3041 خواجہ سراؤں کا اندراج کیا گیا ہے۔

وکیل نے بتایا کہ ٹرانس جینڈر تحفظ قانون سے قبل سے شناختی کارڈ میں مرد خواجہ سرا یا خاتون خواجہ سرا لکھا جاتا تھا لیکن اب ایسا نہیں، قانون آنے کے بعد اب ہر خواجہ سرا کی مرضی کے مطابق صنف لکھی جاتی ہے، ریکارڈ کے مطابق 1953 مرد اور 902 عورت خواجہ سراؤں کا اندراج کیا گیا۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا کسی شخص نے خواجہ سرا شناخت ختم کرنے کیلئے نادرا میں درخواست دی۔ جس پر نادرا کے وکیل نے جواب دیا کہ اس حوالے سے ریکارڈ چیک کر کے عدالت کو آگاہ کیا جائے گا۔

جے یو آئی کے وکیل کامران مرتضیٰ نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ یہ جانچنا ضروری ہے تاثر میں تبدیلی کیا ذہنی خرابی کے سبب تو پیش نہیں آئی، اور یہ بھی جانچ ہونی چاہیے کہ تاثر میں تبدیلی کی وجہ بدنیتی تو نہیں۔

چیف جسٹس وفاقی شرعی عدالت نے جے یو آئی کے وکیل کو ریمارکس دیئے کہ آپ صرف اپنے کیس تک محدود رہیں۔

کامران مرتضی نے اپنے دلائل میں کہا کہ سوشل میڈیا پرسینیٹر مشتاق احمد خان کے خلاف مہم چلائی جارہی ہے، جس پر قائم مقام چیف جسٹس سید محمد انور نے ریمارکس دیئے کہ کوئی کسی کی عزت نہیں اچھال سکتا۔

جے یو آئی (ف) کے وکیل نے مزید کہا کہ ٹرانسجینڈر ایکٹ سے خاندانی نظام کی بنیادیں ہل جائیں گی، ذاتی پسند ناپسند پر جنس کا تعین نہیں کیا جاسکتا، میر اجسم میری مرضی ، میرااحساس میری مرضی کا نعرہ اسلامی معاشرے میں نہیں چل سکتا۔

خواجہ سرا الماس بوبی نے عدالت کو شکایت کی کہ ہمیں تو سعودی عرب میں حج کرنے کی بھی اجازت نہیں ہے۔ خواجہ سرا جولی خاں عدالت سے کہا کہ ہمیں میڈیکل کرانےپرکوئی اعتراض نہیں ہے، ہمارے حقوق کو ہائی جیک کیا جا رہا ہے، میڈیکل بورڈ کےذریعے تعین ہونا چاہیےمیری جنس کیا ہے۔

سماعت کے دوران عدالت کے روبرو درخواست گزار سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ پنجاب پولیس نے آئی جی کو خط لکھا کہ خواتین پولیس اہلکار خواجہ سرا کے ساتھ ٹریننگ کے لئے تیار نہیں، وہ خواجہ سرا لڑکی بن کر بھرتی ہوگیا تھا، قانون کے غلط استعمال کی اور بھی مثالیں موجود ہیں۔

وزارت انسانی حقوق کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ قانون آنے کے بعد ملک کے کسی ادارے میں ایک بھی خواجہ سرا کو ملازمت نہیں دی گئی۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ سندھ اور خیبرپختونخواکی جیلوں میں کل 5 خواجہ سرا قید ہیں، پنجاب، بلوچستان میں کوئی خواجہ سرا جیل میں موجود نہیں، اسلام آباد میں بنائے گئے پروٹیکشن سینٹر میں 100 خواجہ سراؤں کی رجسٹریشن کی گئی ہے۔

سماعت کے دوران این جی او کے نمائندے شیر خان نے عدالت کو بتایا کہ نادرا میں ایگزیکٹو پوسٹ پر تعینات نتاشا کو ہراساں کیا گیا، خواجہ سرا نتاشا نے مقدمہ درج کرا رکھا ہے۔

چیف جسٹس شرعی عدالت نے وزارت انسانی حقوق کے حکام پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ تیسری مرتبہ عدالت میں غلط بیانی کی گئی ہے، بتایا گیا کہ کسی خواجہ سرا نے کوئی مقدمہ درج نہیں کرایا۔

غلط جواب پر وزارت انسانی حقوق کے حکام نے عدالت سے معذرت کرتے ہوئے مؤقف پیش کیا کہ وزارت داخلہ نے جو رپورٹ دی ویسے ہی عدالت میں جمع کرائی۔ جس پر عدالت نے وزارت انسانی حقوق کو حقائق پر مبنی رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کردی۔

دوران سماعت این جی او ٹرانسجینڈر ریسرچرکے نمائندے نے جماعت اسلامی پر الزام لگایا کہ جماعت اسلامی خواجہ سراؤں کے خلاف مہم چلا رہی ہے۔

جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق خان نے عدالت سے کہا کہ میری جماعت پر بغیر ثبوت الزام لگایا گیا ہے۔ جس پر عدالت نے این جی او کے نمائندہ کو ایسے الزامات لگانے سے روک دیا۔

قائم مقام چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ یہ قانون بن چکا ہے اس میں موجود خامیوں کی نشاندہی کی جائے۔ عدالت نے کیس کی سماعت 29 نومبر تک ملتوی کردی۔

Tabool ads will show in this div