اسلام آباد کے ریچارج ویلز (کنویں) پاکستان کے زیر زمین پانی کا مستقبل ہوسکتے ہیں

پاکستان میں 70 فیصد سے زیادہ گھریلو پانی کی ضروریات زمینی پانی سے پوری ہوتی ہیں، یہ میٹھے پانی کا ایک ذریعہ ہے جو...

پاکستان میں 70 فیصد سے زیادہ گھریلو پانی کی ضروریات زمینی پانی سے پوری ہوتی ہیں، یہ میٹھے پانی کا ایک ذریعہ ہے جو حقیقتاً ہمارے قدموں کے نیچے ہے۔ لیکن زیر زمین پانی کے وسائل اکثر ناقص نقشہ سازی اور بدانتظامی کا شکار ہیں اور خطرناک اور غیر پائیدار شرحوں پر ختم ہوتے جارہے ہیں۔

اس سال جب کہ پاکستان تباہ کن سیلاب کے جاری اثرات سے نبرد آزما ہے، اس کے دارالحکومت اسلام آباد نے مصنوعی ریچارج کنوؤں کی بدولت اپنے زیر زمین پانی کے وسائل میں خاطر خواہ اضافہ دیکھا۔

ستمبر 2021 سے جون 2022 کے درمیان اسلام آباد میں 50 مصنوعی زمینی ریچارج کنویں کھودے گئے۔ پہلے کنویں کا افتتاح 24 جون کو شہر کے کچنار پارک میں کیا گیا، جسے پاکستان کونسل آف ریسرچ ان واٹر ریسورسز (پی سی آر ڈبلیو آر ) نے انٹرنیشنل واٹر مینجمنٹ انسٹی ٹیوٹ (آئی ڈبلیو ایم آئی) اور واٹر ایڈ کے اشتراک سے تیار کیا ہے۔ دوسرے کنویں کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے تیار کئے ہیں، جو اسلام آباد کے رہائشیوں کے لئے پانی کی فراہمی سمیت میونسپل سروسز فراہم کرتی ہے۔

پی سی آر ڈبلیو آر کی جانب سے کئے گئے سروے کے مطابق اس سال مئی اور ستمبر کے درمیان 589 ملی میٹر بارش ہونے پر شہر کے آبی ذخائر میں 1.9 ملین گیلن پانی کا اضافہ ہوا۔

سی ڈی اے میں واٹر سپلائی کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل سردار خان زمری کہتے ہیں، ”مزید 50 نئے ریچارج ویلز لگانے کا کام پوری قوت کے ساتھ جاری ہے۔“ انہوں نے دی تھرڈ پول کو بتایا کہ 2022 کے آخر تک اسلام آباد کو مختلف مقامات پر 100 زیر زمین پانی کے ریچارج کنویں ہوں گے۔

یہ دیکھتے ہوئے کہ اسلام آباد کے نیچے متعدد آبی ذخائر موجود ہیں، ماہرین کا اندازہ ہے کہ علاقے کے زیر زمین پانی کی فراہمی میں حقیقی فرق لانے کے لئے ہزاروں کنوؤں کی ضرورت ہوگی۔ لیکن شہری علاقے میں زمینی پانی کو بھرنے میں ابتدائی کامیابی پاکستان کے لئے بڑے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

اسلام آباد میں زیر زمین پانی کا مسئلہ

2017 کی مردم شماری کے مطابق اسلام آباد کی آبادی اب 20 لاکھ سے زیادہ ہے، جو کہ 1998 کے مقابلے میں تقریباً ڈھائی گنا ہے۔ اس سے علاقے کے آبی وسائل پر شدید دباؤ پڑا ہے۔

شہر کے لئے پانی کے بنیادی ذرائع سطحی اور زیر زمین پانی ہیں۔ سی ڈی اے میں زمری کے مطابق، اتھارٹی فی الحال تقریباً 70 ایم جی ڈی [ملین گیلن پر ڈے] فراہم کرتی ہے، جب کہ میعاری ضرورت 110 ایم جی ڈی ہے، یا تقریباً 35 گیلن (132.5 لیٹر) فی شخص فی دن ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن تجویز کرتی ہے کہ نہانے اور کپڑے دھونے کو چھوڑ کر بنیادی حفظان صحت اور خوراک کی ضروریات کا خیال رکھنے کے لئے روزانہ 20 لیٹر کی ضرورت ہوتی ہے۔

اس وقت سی ڈی اے روٹیشن پر پانی فراہم کرتا ہے۔ ایک بڑے گھر، دفتر یا دکان کو ہر دوسرے دن 4.5 گھنٹے پانی ملتا ہے۔ زمری کا کہنا ہے کہ اگر سی ڈی اے کے پاس 110 ایم جی ڈی پانی کی سپلائی ہوتی تو یہ مستقل پانی فراہم کر سکتا تھا۔ ایسا 2000 سے پہلے تھا، اس کے بعد اسلام آباد کی پانی کی طلب رسد سے بڑھنے لگی، جس کی وجہ سے قلت پیدا ہوگئی۔

واٹر ایڈ پاکستان کے کنٹری ڈائریکٹر عارف جبار خان کہتے ہیں کہ زیر زمین پانی کے اخراج میں اضافے کے نتیجے میں زیر زمین پانی کی سطح میں کمی واقع ہوئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں سالانہ اوسطاً 1.3 میٹر بارش ہوتی ہے، جب کہ زیر زمین پانی میں کمی تقریباً 1 میٹر سالانہ ہے۔ سیمنٹ کے بڑھتے ہوئے احاطے اور ویٹ لینڈز کی تباہی نے بارش کی زمین میں داخل ہونے اور زمینی پانی کو ری چارج کرنے کی صلاحیت کو کم کر دیا ہے۔

خان کہتے ہیں، ”اسلام آباد کی طرف نقل مکانی، قانونی اور غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کی افقی توسیع اور پھیلاؤ نے صفائی اور حفظان صحت کو نقصان پہنچایا ہے۔“

پانی کا معیار بھی متاثر ہوا ہے۔ طویل عرصے سے اسلام آباد کی رہائشی ہما خاور کو 1980 کی دہائی میں براہ راست کچن کے نلکے سے پانی پینا یاد ہے۔ وہ کہتی ہیں، ”1990 کی دہائی تک ہم نے پانی ابالنا شروع کیا اور 2000 تک، ہم نے اپنے پانی کو فلٹر کرنا شروع کیا۔“ آج، وہ اپنے پوتے پوتیوں کو صرف بوتل کا پانی پینے دیتی ہے۔

شہر کے تیزی سے پھیلنے نے پانی سے متعلق دیگر مسائل کو جنم دیا ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں اسلام آباد کے کچھ علاقوں میں سیلابی صورتحال میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ زیادہ پختہ اور تعمیر شدہ علاقوں کی وجہ سے، شدید بارش کا بہاؤ طوفانی نالوں میں داخل ہوتا ہے، اور جب وہ بہہ جاتا ہے، تو اسلام آباد-راولپنڈی میں نشیبی علاقے زیر آب آ جاتے ہیں۔

چونکہ وہ بارش کو ذخیرہ کرنے میں مدد کرتے ہیں، لہذا ریچارج کنویں متعدد مسائل کا حل پیش کر سکتے ہیں۔

پاکستان کے محکمہ موسمیات کے مطابق، جولائی 2022 میں ملک بھر میں ہونے والی بارشیں اوسط سے 180 فیصد زیادہ تھیں، جو کہ 1961 کے بعد سے سب سے زیادہ بارشوں والا ،مہینہ تھا۔ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے آنے والی موسمی خرابیوں سے مستقبل میں اس سے بھی زیادہ بھاری بارشوں کی پیشین گوئیوں کے ساتھ، کنووں کی کھدائی ایک غیر یقینی مستقبل کے لئے اچھی حکمت عملی معلوم ہوتی ہے۔

لیکن زمینی پانی کے لئے حقیقی فرق لانے کے لئے، اقبال کہتے ہیں کہ کنوؤں کی ”صرف اسلام آباد میں شاید 5,000 یا اس سے بھی زیادہ“ تعداد کی ضرورت ہے۔

دیگر شہروں کے لئے ایک مثال ؟

پی سی آر ڈبلیو آر کے چیئرمین محمد اشرف اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ”ترمیم“ کے ساتھ، اسلام آباد کے زیر زمین پانی کو ری چارج کرنے کے تجربات کو کہیں اور استعمال کیا جا سکتا ہے۔ وہ کہتے ہیں، ”مجھے پورا یقین ہے کہ اس ٹیکنالوجی کو کراچی جیسے شہر میں لاگو کیا جا سکتا ہے، جہاں معمولی بارش میں بھی شہری سیلاب کا خطرہ ہوجاتا ہے“۔

محسن حفیظ،آئی ڈبلیو ایم آئی میں پاکستان کے کنٹری نمائندے، کہتے ہیں کہ ریچارج کنوؤں کے لئے مثالی جگہ کا انحصار ”بارش کے نمونوں، آبی ذخائر کی اقسام، ہائیڈرو جیولوجیکل حالات اور لینڈ کور کی اقسام“ پر ہے۔ وہ مناسب مقامات کی نشاندہی کے لئے ہائیڈرو جیولوجیکل اسٹڈیز کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔

عالمی بینک میں آبی وسائل کے ماہر بشارت سعید کا کہنا ہے کہ آبی ذخائر کی مٹی اور چٹان کی ساخت ریچارج کنوؤں کے لیے جگہ کے انتخاب پر اثر انداز ہونے والے اہم عوامل ہیں۔ وہ کہتے ہیں، ”موٹی چکنی مٹی کی تہوں والے آبی ذخائر کے حصے چونے کے پتھر کی موٹی تہوں کے مقابلے قدرتی طور پر پانی کی ترسیل اور ذخیرہ کرنے میں بہتر ہیں۔“ چونکہ اسلام آباد میں دونوں موجود ہیں، اس لئے ریچارج کنوؤں کے محل وقوع کو ”بنیادی ہائیڈروجیولوجی اور شہر بھر میں اس کے تغیرات کی تفہیم“ کے ذریعے کیا جانا چاہیے۔

آئی ڈبلیو ایم آئی اور پی سی آر ڈبلیو آر کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے سعید کہتے ہیں، ”یہ سی ڈی اے کے زیر زمین پانی پر معروف قومی ماہرین کے ساتھ تعاون کو ایک خوش آئند اقدام بناتا ہے۔“

خاص طور پر جب ملک آب و ہوا کی وجہ سے ہونے والی تباہیوں کی زد میں ہے، پاکستان کے زیر زمین آبی ذخائر کو بھرنے کے لئے، ریچارج ویلز کو سب سے آسان اور سب سے زیادہ مناسب لاگت والے طریقوں میں سے ایک بتاتے ہوئے، ، اشرف ان کی قدر کے معترف ہیں۔ وہ کہتے ہیں، ’’یہ کنویں ہر شہر، ہر قصبے، ہر گاؤں کی ضرورت ہیں۔“

یہ مضمون اصل میں The Third Pole میں شائع ہوا ہے اور متعلقہ انتظامیہ کی اجازت سے اسے شائع کیا گیا ہے۔

نوٹ: مضمون میں بیان کردہ خیالات مصنف کے ہیں۔ یہ سماء ٹی وی کی آراء یا خیالات کی عکاسی نہیں کرتے۔

third pole

Tabool ads will show in this div