گرفتاری سے قبل ملزم کو آگاہ کرنیکا لاہور ہائیکورٹ کا حکم کالعدم قرار

ملزم کو آگاہ کرنیکی قانون میں کوئی شرط نہیں

سپریم کورٹ نے حمزہ شہباز کو گرفتاری سے قبل آگاہ کرنے کے لاہور ہائیکورٹ کے حکم کیخلاف نیب درخواست پر فیصلہ دیتے ہوئے حکم کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔

سپریم کورٹ کے جج جسٹس اعجاز الاحسن نے تین رکنی بینچ ( جسٹس منیب اختر اور جسٹس مظاہر اکبر نقوی ) کے ہمراہ جمعرات 24 نومبر کو قومی احتساب بیورو ( نیب ) کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کی۔

سماعت کے دوران لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ گرفتاری سے قبل ملزم کو آگاہ کرنے کی قانون میں کوئی شرط نہیں ہے۔

سپریم کورٹ کا یہ بھی کہنا تھا کہ گرفتاری سے قبل آگاہ کرنے کا لاہور ہائیکورٹ کا حکم خلاف قانون ہے۔ حمزہ شہباز کو گرفتاری سے 10 دن قبل آگاہ کرنے کا حکم عدالتی نظیر کے طور پر استعمال نہ کیا جائے۔ عدالت عظمیٰ کی جانب سے لاہور ہائی کورٹ کا حکم غیر موثر ہونے کی بنیاد پر کیس کو نمٹا دیا گیا۔

واضح ہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے پاکستان مسلم لیگ نواز ( ن) کے رہنما حمزہ شہباز کو صاف پانی، رمضان شوگر ملز اور آمد سے زائد اثاثہ جات کیس میں گرفتاری سے قبل آگاہ کرنے کا حکم دیا تھا۔

نیب کی جانب سے 18 نومبر کو سماعت کیلئے مقرر کی گئی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ ملزم کو گرفتاری سے پہلے آگاہ کرنا ضروری نہیں۔ لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ قانون کے برخلاف ہے۔

SUPREME COURT OF PAKISTAN

HAMZA SHEHBAZ SHARIF

LAHORE HIGHCOURT

اشتیاق قاسم Nov 25, 2022 01:03pm
اگر ایک جج نے خلاف قانون حکم نامہ جاری کیا تھا تو پھر اس جج کے خلاف بھی تو ایکشن ہونا چاہئے تھا یعنی یہ آئین اور قانون ان ججوں کی ذاتی خواہشات کے آگے کچھ بھی نہیں جو مرضی حکم جاری کر دیں ۔ جب تک جج حضرات جواب دہ نہیں ہوتے ہماری عدالتیں دنیا میں ہمیں ذلیل و رسواء کرواتی رہیں گی
Reply
Tabool ads will show in this div