نئے آرمی چیف کے لئے کن سینیئر ترین لیفٹیننٹ جنرلز پر غور کیا گیا؟

نئے آرمی چیف کے لئے سمری میں 6 سینیئر ترین لیفٹیننٹ جنرلز کے نام شامل تھے

وفاقی حکومت نے لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر کو آرمی چیف اور لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی بنانے کی سمری صدر مملکت کو بھجوادی ہے۔

موجود آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ 29 نومبر کو ریٹائر ہورہے ہیں۔ پاک فوج کے نئے سربراہ کے لئے سمری وزیر اعظم کو ملی تھی جس میں 6 سینیئر ترین لیفٹیننٹ جنرلز کے نام شامل تھے۔

جن 6 سینیئر ترین لیفٹیننٹ جنرلز کے ناموں پر غور کیا گیا ان میں لیفٹینٹ جنرل عاصم منیر، لیفٹننٹ جنرل ساحر شمشاد مرزا، لیفٹیننٹ جنرل اظہرعباس، لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود، لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید اور لیفٹننٹ جنرل محمد عامرشامل تھے۔

لیفٹینٹ جنرل عاصم منیر

 ۔
۔

لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر کا تعلق او ٹی ایس کے اس کورس سے ہے۔ انہوں نے آفیسرز ٹریننگ اسکول سے فوج کی فرنٹیئر فورس رجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا تھا۔

لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر اس وقت کوارٹر ماسٹر جنرل کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے ہیں اور اس سے قبل ڈی جی آئی ایس آئی کے عہدے پر بھی تعینات رہ چکے ہیں۔

لیفٹینٹ جنرل عاصم منیر موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی ریٹائرمنٹ سے دو روز قبل 27 نومبر کو اپنی مدت ملازمت مکمل کرکے ریٹائر ہوجائیں گے۔ لیکن اگر وزیراعظم ان کی ریٹائرمنٹ کی تاریخ سے پہلے ان کا نام نئے آرمی چیف کےلئے منظور کرلیتے ہیں تو وہ اس عہدے پر آئندہ تین سالہ مدت کے لئے اہل ہوجائیں گے۔

لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد مرزا

 ۔
۔

سندھ رجمنٹ سے تعلق رکھنے والے لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد مرزا اس وقت کور کمانڈر راولپنڈی ہیں جسے ٹین کور بھی کہا جاتا ہے۔ یہ علاقے کے لحاظ سے فوج کی سب سے بڑی کور ہے جو کشمیر اور سیاچن جیسے علاقوں کی نگرانی کرتی ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد مرزا فوج کے اہم ترین عہدوں میں سے ایک یعنی بطور چیف آف جنرل اسٹاف بھی رہ چکے ہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد مرزا اپنے کیریئر میں تین بار یعنی بطور لیفٹیننٹ کرنل ، بریگیڈیئر اور پھر بطور میجر جنرل ملٹری آپریشنز یعنی ایم او ڈائریکٹوریٹ میں تعینات رہے وہ وائس چیف آف جنرل اسٹاف بھی رہے جو ملٹری آپریشنز اور ملٹری انٹیلی جنس کی نگرانی کرتا ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل اظہر عباس

 ۔
۔

بلوچ رجمنٹ سے تعلق رکھنے والے لیفٹیننٹ جنرل اظہر عباس اس وقت فوج کے اہم ترین عہدوں میں سے ایک یعنی چیف آف جنرل اسٹاف کے طور پر تعینات ہیں۔

اس سے قبل انھوں نے بطور کور کمانڈر ٹین کور کمان کی ہے۔ اظہر عباس بطور میجر جنرل کمانڈنٹ انفنٹری اسکول تعینات رہے جبکہ سابق فوجی سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کی طرح وہ مری کے جی او سی بھی رہے۔

جنرل (ر) راحیل شریف کے پی ایس سی یعنی پرنسپل سیکرٹری بھی رہے ہیں۔ بطور لیفٹیننٹ جنرل وہ ڈائریکٹر جنرل جوائنٹ اسٹاف رہے ہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود

 ۔
۔

لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود ایک مضبوط پیشہ وارانہ کیریئر کے حامل ہیں اور فوج میں انھیں خاص طور پر پاکستان کی مغربی سرحد کا ماہر مانا جاتا ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود اس وقت نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے پریذیڈنٹ ہیں جبکہ اس سے قبل وہ پشاور کے کور کمانڈر تعینات رہے ہیں۔ انھیں سابق فاٹا کی جنگ کا ماہر سمجھا جاتا ہے۔

وہ بریگیڈئیر کے طور پر الیون کور میں ہی چیف آف سٹاف رہے، بطور میجر جنرل انھوں نے شمالی وزیرستان میں ڈویژن کی کمان سنبھالی اور افغان سرحد کے ساتھ باڑ لگانے کے منصوبے کی نگرانی کی۔

خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی میں بھی تجزیاتی ونگ کے ڈائریکٹر جنرل رہے جبکہ لیفٹیننٹ جنرل کے طور آئی جی سی اینڈ آئی ٹی رہے۔

لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید

 ۔
۔

لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید دنیا بھر میں اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کی وجہ سے مشہور پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے سربراہ رہ چکے ہیں۔

گزشتہ برس جب انہیں کور کمانڈر بہاولپور تعینات کیا گیا تو سابق وزیر اعظم عمران خان چاہتے تھے کہ وہ آئی ایس آئی کے سربراہ کی حیثیت سے مزید کچھ عرصہ ذمہ داریاں نبھائیں۔

لیفٹننٹ جنرل محمد عامر

 ۔
۔

لیفٹننٹ جنرل محمد عامر آرٹلری سے تعلق رکھتے ہیں اور سابق صدر آصف علی زرداری کے ملٹری سیکرٹری بھی رہے ہیں۔

وہ سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے ڈائریکٹر جنرل اسٹاف ڈیوٹیز تھے اور آرمی چیف سیکرٹریٹ کے امور کی نگراتی کرتے تھے۔

بطور میجر جنرل انھوں نے لاہور ڈویژن کمانڈ کی ہے جب کہ اس وقت وہ گوجرانوالہ کور کی کمان کر رہے ہیں۔

ARMY CHIEF ISSUE

ARMY CHIEF SELECTION

Ali hasnain Nov 25, 2022 10:48pm
Good
Ali hasnain Nov 25, 2022 10:49pm
Very nice
Tabool ads will show in this div