19 افراد کو جرائم ثابت ہونے پر کوڑے مارے گئے، افغان طالبان کی تصدیق

کوڑے سرعام نہیں مارے گئے،طالبان رہنما قاضی رفیع اللہ صمیم

افغانستان میں ایک عدالت کے حکم پر بدھ کے روز تین خواتین اور11 مردوں کو کوڑے مارے گئے ہیں۔

افغان حکام کے مطابق مذکورہ افراد کو چوری اور’اخلاقی جرائم’ کا مرتکب پایاگیا تھا اورعدالت نے انھیں کوڑے مارنے کی سزاسنائی تھی۔

صوبہ لوگر میں طالبان حکومت کے اطلاعات وثقافت کے سربراہ قاضی رفیع اللہ صمیم نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ یہ کوڑے سرعام نہیں مارے گئے ہیں اور ان میں کسی بھی فرد کو زیادہ سے 39 کوڑے مارے گئے ہیں۔

خیال رہے کہ طالبان کے سپریم لیڈرنے رواں ماہ ججوں کو اسلامی قانون یا شریعت کے مکمل نفاذکا حکم دیا تھا۔اس کے بعد پہلی مرتبہ کوڑے کی سزاؤں کی تصدیق کی گئی ہے۔ طالبان کے سپریم لیڈر ہبت اللہ اخوندزادہ نے رواں ماہ ججوں کو حکم دیا تھا کہ وہ اسلامی قانون میں بیان کردہ سزاؤں کا مکمل نفاذ کریں ۔

طالبان ترجمان کے مطابق انھوں نے کہا کہ چوروں اغوا کاروں اور بغاوت کرنے والوں کی فائلوں کا بغورجائزہ لیں اوروہ فائلیں جن میں حدود اور قصاص کی تمام شرعی شرائط پوری ہو چکی ہوں، آپ پرعمل کرناواجب ہے۔

قبل ازیں طالبان کی سپریم کورٹ نے گذشتہ پیر کے روز یہ اطلاع دی تھی کہ رواں ماہ افغانستان کے شمال مشرقی صوبہ تخارمیں 19 افراد کو سرعام کوڑے مارے گئے ہیں۔ سپریم کورٹ کے ترجمان مولوی عنایت اللہ نے بتایا کہ مکمل غوروخوض اور سخت شرعی تحقیقات کے بعد ان میں سے ہرفردکو 39 کوڑوں کی سزا سنائی گئی تھی۔

ترجمان کے مطابق ان سزاؤں پرشمال مشرقی صوبہ تخار میں 11 نومبر کو صوبائی عدالتوں کے حکم پر نماز جمعہ کے بعدعمل درآمد کیا گیا تھا لیکن انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ ان افراد کو کن جرائم کی پاداش میں کوڑے مارنے کی سزا سنائی گئی تھی۔

افغانستان

AFGHAN TALIBAN

Tabool ads will show in this div