کراچی میں پولیس اہلکار کا قتل، واقعہ کی ایف آئی آر درج

مقدمہ تھانہ کلفٹن میں سب انسپکٹر کی مدعیت میں درج

کراچی ( Karachi ) کے علاقے ڈیفنس فیز 5 میں گاڑی سوار کی فائرنگ سے پولیس اہل کار کے قتل کا مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔

مقدمہ تھانہ کلفٹن میں سب انسپکٹر کی مدعیت میں 22 نومبر بروز منگل کو درج کیا گیا ہے۔ درج مقدمے میں انسداد دہشت گردی، قتل، پولیس مقابلے کی دفعات کی گئی ہیں۔

درج ایف آئی آر کے متن کے مطابق مقتول اہلکار عبدالرحمان کو کنپٹی پر دائیں جانب گولی لگی جس کا سکہ سر میں پھنسا۔ اہلکار کے ساتھی کانسٹیبل کا تفصیلی بیان بھی مقدمے کے متن کا حصہ بنایا گیا ہے۔

ایف آئی آر کے متن میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ شاہین فورس کے دو جوانوں کی ڈیوٹی موٹر سائیکل گشت پر تھانہ درخشاں کی حدود میں تھی۔

دونوں اہل کار جب خیابان شمشیر پر پہنچے تو ایک گاڑی گزری، جس سے خاتون کے چیخنے کی آوازیں آرہی تھیں۔ خاتون کی آواز سن کر مقتول اہلکار نے گاڑی کا تعاقب کیا، جسے عبداللہ شاہ غازی بابا کے مزار کے قریب روکا گیا۔

متن کے مطابق گاڑی رکنے پر کانسٹیبل اگلی سیٹ پر جا بیٹھا اور خاتون پچھلی سیٹ سے اتر کر بھاگی۔ گاڑی سوار نے گاڑی کچھ فاصلے پر لے جا کر روکی جہاں مقتول اہل کار اور ملزم میں تلخ کلامی ہوئی۔ تلخ کلامی کے بعد گاڑی سوار نے پولیس اہلکار کو گولی مار دی۔ اس دوران مقتول اہلکار کی جانب سے بھی ایک فائر کیا گیا تھا تاہم ملزم بچ گیا۔

واقعہ میں کب کیا ہوا؟

کراچی ( Karachi ) کے علاقے ڈیفنس فیز فائیو میں پیر 21 نومبر کی رات گاڑی سوار ملزم نے فائرنگ کرکے پولیس اہل کار کو قتل کر دیا۔

پولیس کے مطابق شہید اہل کار کی شناخت عبدالرحمان کے نام سے کی گئی ہے، مقتول کی ایک ماہ بعد شادی تھی۔ مقتول عبدالرحمان شاہین فورس میں تعینات تھا، جس کا تعلق بونیر سے تھا۔

حکام کی جانب سے دعویٰ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اہلکار کو قتل کرنے والے ملزم کا سراغ لگا لیا گیا ہے، جب کہ واردات میں استعمال ہونے والا اسلحہ اور گاڑی بھی تحویل میں لے لی گئی ہے۔

ایس ایس پی ساؤتھ اسد رضا کے مطابق ملزم کی شناخت خرم نثار کے نام سے کی گئی ہے، ملزم کے گھر میں موجود گاڑی سے تین سے چار مزید ہتھیار ملے ہیں، تاہم رہائش گاہ سے ملزم کو تاحال گرفتار نہیں کیا جا سکا۔ ملزم کی تلاش میں چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

پولیس کا دعویٰ ہے کہ ملزم لڑکی کو اغوا کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ ملزم چند روز قبل ہی سوئیڈن سے پاکستان آیا تھا۔

ابتدائی معلومات کے مطابق عبدالرحمان نامی پولیس اہلکار خرم نثار کے ساتھ گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر بیٹھ کر کچھ دور گیا، پھر گاڑی رکتی ہے اور پولیس اہلکار بھی اترتا ہے اور خرم نثار بھی ڈرائیونگ سیٹ چھوڑ کر باہر آجاتا ہے۔

اس کے بعد دونوں میں تکرار شروع ہوتی ہے۔ دونوں اسلحہ تانتے ہیں اور تکرار کے بعد خرم نثار اہلکار کو گولی مار دیتا ہے۔ گولی لگنے کے بعد شاہین فورس کا اہلکار عبدالرحمان موقع پر ہی جاں بحق ہوجاتا ہے۔

ڈی آئی جی ساؤتھ عرفان بلوچ کا کہنا ہے کہ ملزم کی تفصیلات ایف آئی اے کو فراہم کر دی گئی ہیں تاکہ ملزم بیرون ملک فرار نہ ہوسکے۔

target killing

KARACHI CRIME

KARACHI POLICE FIRING

KARACHI SHOOTING

Tabool ads will show in this div