عمران خان کیخلاف توشہ خانہ ریفرنس: ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر کا بیان قلمبند

عمران خان پر بددیانتی،غلط بیانی،کرپٹ پریکٹس ثابت ہوئی،ریفرنس
Nov 22, 2022
<p>فائل فوٹو</p>

فائل فوٹو

پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی ) کے چیئرمین عمران خان ( Imran Khan ) کیخلاف توشہ خانہ کیس میں ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر وقاص ملک کا بیان قلمبند کرلیا گیا ہے، جب کہ کیس کی مزید سماعت 8 دسمبر تک ملتوی کردی گئی ہے۔

توشہ خانہ کیس میں پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی ) کے چیئرمین عمران خان کیخلاف فوجداری کارروائی کے ریفرنس کا آج بروز منگل 22 نومبر کو اسلام آباد کی عدالت میں آغاز ہوا۔ آج ہونے والے ٹرائل میں ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر وقاص ملک اور وکیل الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے۔ اس موقع پر ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر وقاص ملک نے اپنا بیان قلمبند کرایا۔

ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر

ٹرائل کورٹ میں ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر وقاص ملک کی جانب سے قلمبند کرائے گئے بیان میں کہا گیا کہ الیکشن ایکٹ کے تحت عمران خان کے خلاف کارروائی کا حکم دیا گیا۔

ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر کے مطابق اليکشن کمیشن خود مختار ادارہ ہے جو آئین کے تحت کام کرتا ہے،
الیکشن کمیشن کرپٹ پریکٹس کی روک تھام کو یقینی بناتا ہے۔ سينيٹر اور ايم اين ايز الیکشن کمیشن میں اپنے گوشوارے سالانہ جمع کرواتے ہیں۔ عمران خان نے 2018 سے 2021 تک اپنے گوشوارے کمیشن میں جمع کروائے۔

جس پر ایڈیشنل جج نے سوال کیا کہ کیا ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر کسی دباؤ پر تو بیان ریکارڈ نہیں کروا رہے؟، اس پر الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا کہ نہیں! میرے مؤکل رضا مندی کے ساتھ اپنا بیان ریکارڈ کروا رہے ہیں۔

ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر نے یہ بھی کہا کہ چیئرمین سینيٹ اور اسپیکر قومی اسمبلی کسی بھی رکن کے خلاف نااہلی کا ریفرنس بھیج سکتا ہے۔ اسپيکر نے عمران خان کی نااہلی کے خلاف 2 اگست کو ریفرنس بھیجا۔ الیکشن کمیشن کو کابینہ سیکریٹریٹ کے ذریعے توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات موصول ہوئیں۔

ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ظفر اقبال کی عدالت میں توشہ خانہ کیس کی سماعت کے دوران ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر کا بیان قلمبند ہونے کے بعد سماعت 8 دسمبر تک ملتوی کر دی گئی۔

پس منظر

قبل ازیں الیکشن کمیشن نے توشہ خانہ ریفرنس ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کو بھیجوایا تھا۔ ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر نے کہا کہ ٹرائل کورٹ عمران خان پر کرپٹ پریکٹس کا ٹرائل کرے ،الیکشن کمیشن نے فیصلے میں عمران خان کیخلاف فوجداری کارروائی کا حکم دیا تھا۔

توشہ خانہ ریفرنس الیکشن ایکٹ کے سیکشن 137 ،170 ،167 کے تحت بھجوایا گیا تھا،جس میں استدعا کی گئی کہ عدالت شکایت منظور کرکے عمران خان کو سیکشن 167 اور 173 کے تحت سزا دے، جب کہ تین سال جیل اور جرمانہ کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے عدالت میں جمع ریفرنس کی کاپی سما نے حاصل کرلی ہے۔ متن کے مطابق عمران خان پر بد دیانتی، غلط بیانی اورکرپٹ پریکٹس ثابت ہوئی۔

سربراہ تحریک انصاف نے تحائف خرید کر فروخت کو تسلیم کیا لیکن بینک اور کابینہ ریکارڈ میں آمدنی کو ظاہر نہیں کیا، جب کہ جان بوجھ کر گوشواروں میں آمدن کو چھپایا گیا۔

توشہ خانہ ریفرنس

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی نااہلی کے لیے دائر کیا جانے والا توشہ خانہ ریفرنس حکمراں اتحاد کے 5 ارکان قومی اسمبلی کی درخواست پر اسپیکر قومی اسمبلی نے الیکشن کمیشن کو بھجوایا تھا۔

ریفرنس میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ عمران خان نے توشہ خانہ سے حاصل ہونے والے تحائف فروخت کرکے جو آمدن حاصل کی اسے اثاثوں میں ظاہر نہیں کیا۔ آئین کے آرٹیکل 63 کے تحت دائر کیے جانے والے ریفرنس میں آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت عمران خان کی نااہلی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

کیس کی سماعت کے دوران عمران خان کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے مؤقف اپنایا تھا کہ 62 (ون) (ایف) کے تحت نااہلی صرف عدلیہ کا اختیار ہے اور سپریم کورٹ کے مطابق الیکشن کمیشن کوئی عدالت نہیں۔

واضح رہے کہ عمران خان نے توشہ خانہ ریفرنس کے سلسلے میں 7 ستمبر کو الیکشن کمیشن میں اپنا تحریری جواب جمع کرایا تھا، جواب کے مطابق یکم اگست 2018 سے 31 دسمبر 2021 کے دوران وزیر اعظم اور ان کی اہلیہ کو 58 تحائف دیے گئے۔

بتایا گیا کہ یہ تحائف زیادہ تر پھولوں کے گلدان، میز پوش، آرائشی سامان، دیوار کی آرائش کا سامان، چھوٹے قالین، بٹوے، پرفیوم، تسبیح، خطاطی، فریم، پیپر ویٹ اور پین ہولڈرز پر مشتمل تھے البتہ ان میں گھڑی، قلم، کفلنگز، انگوٹھی، بریسلیٹ/لاکٹس بھی شامل تھے۔

جواب میں بتایا کہ ان سب تحائف میں صرف 14 چیزیں ایسی تھیں جن کی مالیت 30 ہزار روپے سے زائد تھی جسے انہوں نے باقاعدہ طریقہ کار کے تحت رقم کی ادا کر کے خریدا۔

اپنے جواب میں عمران خان نے اعتراف کیا تھا کہ انہوں نے بطور وزیر اعظم اپنے دور میں 4 تحائف فروخت کیے تھے۔

سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ انہوں نے 2 کروڑ 16 لاکھ روپے کی ادائیگی کے بعد سرکاری خزانے سے تحائف کی فروخت سے تقریباً 5 کروڑ 80 لاکھ روپے حاصل کیے، ان تحائف میں ایک گھڑی، کفلنگز، ایک مہنگا قلم اور ایک انگوٹھی شامل تھی جبکہ دیگر 3 تحائف میں 4 رولیکس گھڑیاں شامل تھیں۔

IMRAN KHAN

Islamabad High Court (IHC)

TOSHA KHANA REFERENCE

pti long march 2022

Tabool ads will show in this div