فیفا ورلڈ کپ کے دوران اسرائیلی چینلز کو عوامی سطح پر شدید ردعمل کا سامنا

اسرائیلی نیوز چینلز کے ساتھ عوامی ردعمل کی ویدٰوز سوشل میڈیا پر وائرل

قطر میں جاری فٹ بال ورلڈ کے دوران اسرائیلی نیوز چینلز کو عوامی سطح پر شدید ردعمل کا سامنا ہے۔

چند برسوں کے دوران یو اے ای سمیت کئی عرب ممالک اسرائیل سے کافی قریب آگئے ہیں لیکن قطر کے آج بھی اسرائیل سے سفارتی تعلقات نہیں۔

فیفا ورلڈ کپ کے باعث قطر سے اسرائیل سے خصوصی پروازوں کی اجازت دے دی ہے اور اسرائیلی نیوز چینلز کے نمائندے میگا ایونٹ کی کوریج کے لیے دوحا میں موجود ہیں۔

فلسطینیوں ظلم و بربریت کے باعث اسرائیلی نیوز چینلز کو عرب شہریوں کی جانب سے شدید ردعمل کا سامنا ہے۔ اس حوالے سے کئی ویڈیوز ٹوئٹر پر وائرل ہوچکی ہیں۔

ایک ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے ایک نیوز اینکر عربی میں کچھ شائقین سے گفتگو کرتا ہے، مداح ان سے رپورٹر سے ملک کے بارے میں معلوم کرتا ہے، رپورٹر خود کو اسرائیلی ظاہر کرتا ہے تو لبنانی اس سے بات کئے بغیر چلے جاتے ہیں۔

ایک لمحے بعد لبنانی مداح واپس آتے اور رپورٹر کو کہتے ہیں کہ وہ اسرائیل نہیں فلسطین ہے۔

ٹوئٹر پر ایک اور ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں ایک رپورٹر دوحا میں فٹ بال شائقین کے لئے جھنڈے اور دیگر چیزیں بیچنے والے دکاندار سے بات کرتا ہے۔

ابتدا میں دکاندار رپورٹر سے بات کرنے کے لئے راضی ہوجاتا ہے لیکن جب رپورٹر خود کو اسرائیلی بتاتا ہے تو وہ اس سے بات کرنے سے ہی انکار کردیتا ہے۔

fifa world cup 2022

FIFA World Cup Qatar 2022

Tabool ads will show in this div