گرینڈ ہیلتھ الائنس نے گرفتار خواتین کی رہائی پر ایمرجنسی سروس بند کرنے کا فیصلہ واپس لے لیا

آرٹلری میدان تھانے کے باہر دیگر افراد کی رہائی کیلئے مظاہرہ، احتجاج جاری رکھنے کا اعلان

گرینڈ ہیلتھ الائنس سندھ نے کراچی میں مظاہرین پر پولیس کے تشدد اور گرفتاریوں کیخلاف کشمور سے کراچی تک تمام سرکاری اسپتالوں کی ایمرجنسی سروسز فی الفور بند کرنے کا اعلان کیا، جو رات گئے خواتین کارکنان کی رہائی کے بعد فیصلہ واپس لے لیا گیا، تاہم کراچی میں احتجاج جاری رہے گا۔

ڈاکٹر عمر سلطان کا کہنا ہے زیر حراست تمام ورکرز کو 3 گھنٹے میں رہا کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ پیر کو سندھ بھر کے سیکڑوں ہیلتھ ورکرز کراچی پریس کلب سے وزیراعلیٰ ہاؤس جائیں گے۔

رپورٹ کے مطابق پولیس نے گرفتار خواتین کو رہا کردیا، جس کے بعد گرینڈ ہیلتھ الائنس سندھ نے سندھ بھر کے اسپتالوں کی ایمرجنسی کے بائیکاٹ کا فیصلہ واپس لے لیا۔

کراچی میں گرینڈ ہیلتھ الائنس سندھ کے ورکرز کا مطالبات کے حق میں احتجاج جاری ہے، مظاہرین نے آرٹلری میدان تھانے کے اندر اور باہر بھی احتجاج کیا اور زیر حراست ساتھیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا۔

کراچی سمیت سندھ بھر میں ینگ ڈاکٹرز، پیرا میڈیکل اسٹاف اور نرسز کا گرینڈ ہیلتھ الائنس سندھ رسک الاؤنس کی فراہمی کیلئے کئی روز سے احتجاج کررہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق گرینڈ ہیلتھ الائنس نے مطالبات منظور نہ ہونے پر وزیراعلیٰ ہاؤس جانے کا اعلان کررکھا تھا، مظاہرین کے آگے پر بڑھنے پر پولیس نے انہیں روکنے کی کوشش کی۔

کراچی پولیس اور مظاہرین کے درمیان مذاکرات ناکام ہوگئے، جس کے بعد پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے لاٹھی چارج کیا اور واٹر کینن کا بھی استعمال کیا۔

حکومت کی جانب سے مذاکرات کیلئے کمیٹی بنائی گئی تھی تاہم مذاکرات سے قبل ہی پولیس نے ایک بار پھر مظاہرین پر واٹر کینن چلادی۔

سندھ حکومت کی جانب سے گرینڈ ہیلتھ الائنس سے مذاکرات کیلئے کمیٹی تشکیل دی گئی، جس میں صوبائی وزیر اطلاعات، لوکل گورنمنٹ اور وزیر بلدیات شامل ہیں جبکہ سیکریٹری فنانس اور سیکریٹری صحت بھی کمیٹی کا حصہ ہوں گے۔

پولیس نے گرینڈ ہیلتھ الائنس سندھ کے سرکردہ رہنماؤں اعجاز کلیری اور محبوب نوناڑی سمیت کئی افراد کو گرفتار کرلیا، جن میں خواتین بھی شامل ہیں۔

دوسری جانب پارلیمانی سیکریٹری صحت قاسم سومرو نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گرینڈ ہیلتھ الائنس کا 26 روز سے احتجاج غیر اخلاقی ہے، ان کے احتجاج کا کوئی جواز نہیں بنتا، اسے فی الفور ختم ہونا چاہئے، اسپتالوں میں مریضوں کو شدید اذیت و تکلیف کا سامنا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جو بھی مطالبات ہیں وہ مذاکرات کے ذریعے حل ہوسکتے ہیں، ہماری کوشش ہے کہ ان سے بات چیت کے ذریعے جلد از جلد معاملات کو حل کروایا جائے۔

گرینڈ ہیلتھ الائنس کی کور کمیٹی کے رکن اور ینگ نرسز ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری سید شاہد اقبال نے بتایا کہ ایک جانب حکومت نے مذاکرات کیلئے کمیٹی کا اعلان کیا اور دوسری طرف پولیس نے ہم پر چڑھائی کردی۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہمارے 300 سے 400 افراد زیر حراست ہیں، تاحال دوبارہ مذاکرات کیلئے کسی نے رابطہ نہیں کیا۔

پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن (پیما) نے کراچی میں پُرامن احتجاج کرنے والے ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکس پر لاٹھی چارج اور گرفتاریوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت معاملے کو سلجھانے کے بجائے قوت کا استعمال کرنے پر اتر آئی ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت طاقت کے بجائے بات چیت کے ذریعے معاملے کو حل کرے کیونکہ احتجاج کے نتیجے میں سرکاری اسپتالوں میں او پی ڈی اور معمول کے آپریشن بند ہونے سے غریب مریض سب سے زیادہ متاثر ہیں۔

ڈاکٹر عبداللہ متقی نے مزید کہا کہ اسپتالوں میں ہڑتال مسائل کا حل نہیں، ڈاکٹرز کو ہڑتالوں سے گریز کرنا چاہئے کیونکہ اس سے صرف مریضوں کا نقصان ہوتا ہے۔

GRAND HEALTH ALLAINCE

GHA PROTEST

Tabool ads will show in this div