کراچی میں نیگلیریا سے ایک اور نوجوان زندگی کی بازی ہارگیا

رواں سال اموات کی تعداد 5 ہوگئی

کراچی میں دماغ خور جرثومے سے 28 سالہ نوجوان انتقال کرگیا، ڈیفنس فیز 4 کا رہائشی مزمل علی چند روز قبل سوئمنگ پول میں نہایا تھا۔ رواں برس شہر قائد میں نیگلیریا امیبا سے یہ پانچویں ہلاکت ہے۔

جناح اسپتال کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر شاہد رسول کے مطابق چند روز قبل کراچی ڈیفنس فیز 4 کے رہائشی نوجوان کو تیز بخار اور غنودگی کی حالت میں جناح اسپتال لایا گیا تھا، جس کی حالت کو دیکھتے ہوئے نیورولوجی وارڈ میں داخل کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق نجی لیبارٹری سے ٹیسٹ کے نتیجے میں نوجوان میں نیگلیریا امیبا کی تشخیص ہوئی تھی، متاثرہ نوجوان کے گھر والوں کے مطابق چند روز قبل وہ نجی سوئمنگ پول میں نہایا تھا، جس کے بعد مزمل کو بخار ہوا، الٹی، شدید سر درد اور غنودگی کی سی کیفیت طاری ہوگئی۔

اسپتال حکام کے مطابق نوجوان چند روز جناح اسپتال میں زیر علاج رہا اور انتقال کرگیا۔ محکمہ صحت سندھ کے مطابق نیگلیریا سے رواں برس کراچی میں ہونے والی یہ پانچویں ہلاکت ہے۔

سندھ میں 2011ء میں نیگلیریا سے ایک، 2012ء میں 9، 2013ء میں 3، 2014ء میں 14، 2015ء میں 12، 2016ء میں 3، 2017ء میں 6، 2018ء میں 7، 2019ء میں 15، 2020ء میں 8، 2021ء میں 7 اور 2022ء میں اب تک 5 کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں۔

سندھ میں نیگلیریا کا مرض منظر عام پر آنے کے بعد سے اب تک 90 اموات رپورٹ ہوچکی ہیں، جن میں سے 86 متوفین کا تعلق کراچی سے تھا۔

طبی ماہرین کے مطابق نیگلیریا کو برین ایٹنگ امیبا یعنی دماغ خور جرثومہ بھی کہتے ہیں اور اس کا شکار ہونیوالے 98 فیصد افراد انتقال کرجاتے ہیں۔

نیگلیریا فاؤلیری عام طور پر سوئمنگ پولز، ندیوں اور جھیلوں میں موجود ہوتا ہے اور انسانوں میں Primary Amebic Meningoencephalitis (PAM) نام کے ایک مہلک دماغی انفیکشن کا سبب بنتا ہے، سندھ میں ہونیوالی زیادہ تر اموات کی وجہ پانی میں کلورین کی مطلوبہ مقدار کا شامل نہ ہونا ہے۔

دماغی و اعصابی بیماریوں کے ماہر پروفیسر عبدالمالک کے مطابق اگر بغیر کلورین ملے پانی میں موجود جرثومہ انسان کی ناک کے ذریعے دماغ تک پہنچ جائے تو یہ تیزی سے دماغ کو کھانا شروع کردیتا ہے، اس کی علامات ایک ہفتے بعد ظاہر ہونا شروع ہوتی ہیں اور دو یا تین ہفتے میں متاثرہ شخص انتقال کرجاتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ عموماً انسان کے انتقال کے بعد اس بیماری کی تشخیص ہوپاتی ہے یا اس وقت تشخیص ہوتی ہے جب انسان کے بچنے کے امکانات بالکل ختم ہوجاتے ہیں۔

اس بیماری کی علامات میں سر درد، بخار، متلی، الٹی، گردن میں اکڑن، تبدیل شدہ ذہنی کیفیت، فریب نظر، کوما، الجھن، لوگوں اور اردگرد کے ماحول پر توجہ نہ دینا، توازن کا کھو جانا، دورے پڑنا اور بعض اوقات بھری ہوئی ناک شامل ہیں۔

پروفیسر عبدالمالک نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ نیگلیریا فاؤلیری امیبا کی ایک قسم ہے، جو دوسروں سے خوراک حاصل کرتا ہے، یہ بغیر کلورین ملے میٹھے پانی میں پایا جاتا ہے اور عام طور پر تالاب، سوئمنگ پول یا گھر میں پانی کی ٹنکیوں میں ملتا ہے، یہ جرثومہ ناک کے ذریعے انسانی دماغ میں داخل ہوکر دماغ کا اگلا حصہ کھانا شروع کر دیتا ہے، اسی لئے اسے دماغ خور جرثومہ بھی کہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نیگلیریا فاؤلیری سے متاثر ہونیوالے فرد کو پہلے ہلکا سر درد ہوتا ہے، جس کے بعد غنودگی طاری ہونے لگتی ہے، طبیعت زیادہ خراب ہونے پر جب اسپتال لایا جاتا ہے تو بہت دیر ہوچکی ہوتی ہے اور تب تک یہ جرثومہ متاثرہ شخص کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا چکا ہوتا ہے، اس جرثومے سے متاثر 98 فیصد افراد انتقال کرجاتے ہیں۔

کراچی

NEGLERIA

Tabool ads will show in this div