ذیابطیس کے مریضوں کا ڈیٹا اکٹھا کرنے کیلئے ’’ڈائبیٹیز رجسٹری آف پاکستان‘‘ قائم

ذیابطیس کے باعث ہر سال تقریباً 4 لاکھ افراد کی ٹانگ کاٹ دی جاتی ہیں، ماہرین

قومی ادارہ برائے صحت اسلام آباد نے وفاقی وزارت صحت کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے بعد ذیابطیس کے مریضوں کا قومی ڈیٹا اکٹھا کرنے اور مرض کی روک تھام کیلئے ’’ڈائبٹیز رجسٹری آف پاکستان‘‘ کا انتظام باضابطہ طور پر سنبھال لیا ہے۔

اس بات کا انکشاف انٹرنیشنل ڈائبٹیز فیڈیریشن مشرق وسطیٰ اور جنوبی افریقا کے صدر پروفیسر عبدالباسط نے ہفتہ کے روز کراچی کے مقامی ہوٹل میں انٹرنیشنل ڈائبٹیز فٹ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

انٹرنیشنل ڈائبٹیز فیڈریشن کے مینا ریجن پریذیڈنٹ پروفیسر عبدالباسط کا کہنا تھا کہ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ اسلام آباد نے وفاقی وزارت صحت کے نوٹیفکیشن کے ذریعے ذیابطیس رجسٹری آف پاکستان کا انتظام باضابطہ طور پر سنبھال لیا ہے تاکہ ٹائپ ون اور ٹائپ 2 ذیابطیس کے مریضوں کا ملک بھر سے ڈیٹا اکٹھا کیا جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ این آئی ایچ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر جنرل عامر اکرام کی طرف سے مطلع کیا گیا ہے کہ NIH نے باضابطہ طور پر بقائی انسٹی ٹیوٹ آف ڈائیبیٹولوجی اینڈ اینڈو کرائنولوجی سے ذیابطیس رجسٹری آف پاکستان کا انتظام سنبھال لیا ہے۔

نیشنل ایسوسی ایشن آف ذیابطیس ایجوکیٹرز آف پاکستان نے بقائی انسٹی ٹیوٹ آف ڈائیبیٹولوجی اینڈ اینڈو کرائنالوجی، انٹرنیشنل ڈائیبیٹس فیڈریشن، ڈائبیٹک فٹ انٹرنیشنل اور دیگر کے اشتراک سے ’NADEP Footcon 2022 کے عنوان سے تین روزہ بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد کیا، جس میں دنیا کے کئی ممالک کے ساتھ ساتھ پاکستان کے دیگر شہروں کے ماہرین صحت بھی شرکت کر رہے ہیں۔

پروفیسر ڈاکٹر عبدالباسط نے مزید کہا کہ ذیابطیس کی پیچیدگیوں کی وجہ سے پاکستان میں ہر سال تقریباً 4 لاکھ افراد کی ٹانگیں کاٹ دی جاتی ہیں کیونکہ اس مرض میں پاؤں کا زخم ہونا ایک بنیادی پیچیدگی ہے، پاکستان میں تقریباً 3 کروڑ 30 لاکھ لوگ ذیابطیس کے مرض کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں، جن میں سے زیادہ تر لوگ پاؤں یا ٹانگیں کٹنے کے 5 سال کے اندر ہی دم توڑ دیتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 75 سے 80 فیصد لوگوں کے پاؤں اور ٹانگیں کٹنے سے بچانے کیلئے پورے ملک میں ڈائبیٹک فٹ کلینک قائم کرنے کی ضرورت ہے۔

ڈاکٹر عبدالباسط نے کہا کہ ذیابطیس ملک میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل رہا ہے اور ابھی سے حفاظتی اقدامات نہ کئے گئے تو اگلے 10 سالوں میں پاکستان میں یہ تعداد دگنی ہوکر 6 کروڑ 60 لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ بقائی انسٹیٹیوٹ نے ملک بھر میں 118 فٹ کلینکس قائم کئے ہیں، جہاں ذیابطیس کے مرض سے پیدا ہونے پیچیدگیوں کو روکنے کیلئے مدد مل رہی ہے اور ان کلینکس کے نتیجے میں ذیابطیس کے مریضوں کے پاؤں کٹنے کی شرح میں 50 فیصد کمی آئی ہے۔

تقریب کے مہمان خصوصی اور پاکستان میڈیکل کمیشن صدر پروفیسر نوشاد شیخ نے خطاب میں ذیابطیس کو پاکستان کیلئے آنے والے وقتوں میں صحت کا سب بڑا چیلنج قرار دیا اور کہا کہ فوری تدارک کیلئے اقدامات نہ کئے گئے تو 2032ء تک ملک میں ذیابطیس کے مریضوں کی تعداد ساڑھے 6 کروڑ سے تجاوز کر جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ان حالات میں آگہی اور حفاظتی انتظامات ہی وہ بنیادی طریقہ کار ہیں جن کے ذریعے اس وبائی مرض سے ملک کو محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے میڈیکل انسٹیٹیوٹس خاص طور پر میڈیکل یونیورسٹیوں پر زور دیا کہ وہ طبی تحقیق کو فروغ دیں۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر زاہد میاں نے کہا کہ ملک میں ذیابطیس سے بچاؤ کیلئے ضروری ہے کہ فٹ مینجمنٹ پر کام کیا جائے اور فٹ کیئر کلینکس بنائے جائیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ہم اس وقت ملک بھر میں 118 کلینکس قائم کرچکے ہیں، اگلے سال ان کلینکس کی تعداد کو بڑھاکر 300 تک لے جائیں گے اور ہمارا ٹارگٹ ہے کہ ملک بھر میں 3 ہزار فٹ کیئر کلینکس قائم ہوں تاکہ لوگوں کے پاؤں کٹنے سے بچا سکیں، بلکہ ان کی زندگیوں کو بھی محفوظ کیا جا سکے۔

نیشنل ایسوسی ایشن آف ڈائبیٹیز ایجوکیٹرز آف پاکستان کے صدر ڈاکٹر سیف الحق نے کہا کہ پرائمری سطح پر جب تک ڈائبٹیز کیلئے کام نہیں ہوگا تب تک اسے روک نہیں سکتے۔

HEALTH

DIABETIC

Tabool ads will show in this div