منڈی بہاءُ الدین کی جیل میں پیسے دو اور مرضی کی سہولت پاؤ

انٹیلیجنس سینٹر کی خفیہ رپورٹ میں سپرنٹنڈنٹ اور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جیل کرپٹ افسران قرار

منڈی بہاء الدین کی جیل میں ہر کام اور ہر سہولت کا ریٹ فکس ہے، پیسے دیں اور مرضی کا کام کروائیں۔

صوبائی انٹیلیجنس سینٹر کی خفیہ رپورٹ نے منڈی بہاء الدین کی جیل کے حوالے سے ہوشربا انکشافات کیے ہیں، جس کے مطابق جیل میں نوٹ دکھاؤ اور مرضی کا کام کراؤ کا قانون ہے۔

رپورٹ کے مطابق جیل میں کرپشن کا بازار گرم ہے، اور وزیراعلیٰ پنجاب کے پرنسپل سیکریٹری محمد خان بھٹی کا من پسند جیل سپرنٹنڈنٹ ماہانہ لاکھوں روپے کمارہا ہے۔

جیل میں ہر کام اور ہر سہولت کا ریٹ فکس ہے، پیسے دیں اورمرضی کا کام کروائیں، اور صوبائی انٹیلیجنس سینٹر رپورٹ میں اس سارے دھندے میں ملوث سپرنٹنڈنٹ جیل اور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جیل دونوں کرپٹ افسر قرار دیئے گئے ہیں، جن کی نگرانی میں 50 لاکھ روپے تک کی رشوت وصول کی جاتی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ قیدیوں کو اچھے کمرے دینے کیلئے 10 سے 15 ہزار روپے لئے جاتے ہیں اور خود جیل ملازمین من پسند ڈیوٹی لگوانے کیلئے افسران کو 5 ہزار روپے رشوت دیتے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کچھ ملازمین 15 سے 20 ہزار روپے دے کر اپنی غیرحاضری کو حاضری میں تبدیل کروادیتے ہیں، جبکہ جیل میں کرپشن کیخلاف بولنے والے قیدیوں کو سخت نتائج بھگتنا پڑتے ہیں۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سپرنٹنڈنٹ جیل ٹیپو سلطان رشوت کا آدھا حصہ خود رکھتا ہے اور آدھا عملے میں تقسیم کر دیا جاتا ہے، جبکہ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جیل رانا شمشاد بھی کرپٹ افسر ہیں۔

رپورٹ میں جیل سپرنٹنڈنٹ کے خلاف جوڈیشل انکوائری کی تجویز دی گئی ہے۔

punjab jails

Tabool ads will show in this div