سینیٹ قائمہ کمیٹی داخلہ کا اجلاس: ٹارچر اینڈ کسٹوڈیل ڈیتھ بل 2022ء منظور

سینیٹر سیف اللہ نیازی وزارت داخلہ کی تحویل میں ہیں، بریفنگ

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی داخلہ نے ٹارچر اینڈ کسٹوڈیل ڈیتھ (روک تھام اور سزا) بل 2022ء متفقہ طور پر منظور کرلیا۔ سینیٹر سیف اللہ نیازی کی گرفتاری پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ سیف اللہ نیازی وزارت داخلہ کی تحویل میں ہیں۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس کو جمعہ کو بتایا گیا کہ سینیٹر سیف اللہ سرور خان نیازی وزارت داخلہ کی تحویل میں ہیں۔

کمیٹی نے وزارت داخلہ سے سینیٹر سیف اللہ نیازی کی پراسرار گرفتاری پر رپورٹ طلب کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے 30 منٹ کیلئے ملتوی کیا، اجلاس دوبارہ شروع ہونے کے بعد اسپیشل سیکریٹری نے رکن پارلیمنٹ کے ایف آئی اے کی تحویل میں ہونے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری طور پر سینیٹر سیف اللہ خان نیازی کی تحویل کی ذمہ داری کسی ادارے نے نہیں لی۔

اسپیشل سیکریٹری نے کمیٹی کو یہ بھی بتایا کہ وہ وزیر سے رابطہ کرنے اور اس بارے میں معلومات حاصل نہیں کرسکے۔

اس سے قبل پارلیمانی کمشنر کا کہنا تھا کہ ممبر پارلیمنٹ ایف آئی اے کی تحویل میں ہے تاہم ایف آئی اے نے ایک سرکاری بیان کے ذریعے تصدیق کی کہ ممبر پارلیمنٹ ایف آئی اے کی کسی حراست میں نہیں ہے۔

کمیٹی نے پارلیمنٹ کی عمارت سے معزز رکن اسمبلی کی گرفتاری کی شدید مذمت کی اور اس پر وزارت کی غیر سنجیدگی اور نا اہلی کی سرزنش کی۔

کمیٹی نے سیکریٹری کی جانب سے معلومات چھپانے پر سخت تشویش کا اظہار کیا، کمیٹی نے اس پر بھی حیرانگی کا اظہار کیا کہ ممبر پارلیمنٹ وزارت کی تحویل میں ہے تاہم سیکریٹری متعدد بار معلومات طلب کرنے کے باوجود بات کرنے میں ناکام رہے، جس پر وہ غیر مطمئن ہیں۔

اطلاعات کے مطابق چیئرمین کمیٹی نے وزارت کو سختی سے ہدایت کی کہ وہ 3 گھنٹے میں کمیٹی کو اس معاملے پر مکمل رپورٹ سے آگاہ کرے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے اجلاس میں ٹارچر اینڈ کسٹوڈیل ڈیتھ (روک تھام اور سزا) بل 2022ء متفقہ طور پر منظور کرلیا۔ اس بل کا مقصد سرکاری اہلکاروں کے زیر حراست افراد کیخلاف تشدد، حراست میں موت اور حراستی عصمت دری کی کارروائیوں کو مجرمانہ بنانا و روکنا اور اس طرح کی کارروائیوں کے متاثرین کا ازالہ کرنا ہے۔

اجلاس میں فوجداری قوانین (ترمیمی) بل، 2022ء (پی پی سی میں نئے سیکشن 52B، 512 اور 514 کا اضافہ اور شیڈول-II Cr.Pc میں نتیجہ خیز ترامیم) کو 3 پیشگی التواء کے بعد آخری بار مؤخر کردیا گیا۔

کمیٹی نے فوجداری قوانین (ترمیمی) بل 2022ء پر بھی غور کیا۔ سینیٹر روبینہ خالد نے بچوں کیخلاف سائبر کرائم کے حوالے سے بل میں ترامیم کی تجویز پیش کی۔

چیئرمین کمیٹی نے سفارشات پہلے وزارت قانون کو بھجوانے کی ہدایت کرتے ہوئے معاملہ مزید غور و خوض کیلئے مؤخر کردیا۔

senate standing committee

SAIF ULLAH NIAZI

Tabool ads will show in this div