کابینہ حب کو ضلع بنانے سے متعلق نوٹیفکیشن واپس لے سکتی ہے، جام کمال

اپوزیشن جماعتوں کی خاموشی معنی خیز ہے، سابق وزیراعلیٰ

سابق وزیراعلیٰ میر جام کمال خان نے اپوزیشن جماعتوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان اسمبلی میں کوئی اپوزیشن نہیں ہے، اپوزیشن جماعتوں کی خاموشی معنی خیز ہے، اگر کابینہ چاہئے تو حب کو ضلع بنانے سے متعلق نوٹیفکیشن کو ڈی نوٹیفائی کیا جاسکتا ہے۔

بلوچستان ہائی کورٹ میں لسبیلہ کو 2 اضلاع میں تقسیم کرنے سے متعلق کیس کی سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جام کمال خان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان سے کوئی اختلاف نہیں ہے، میر عبدالقدوس بزنجو کی جانب سے ملاقات کیلئے 2، 3 بار پیغامات ملے ہیں لیکن سیلاب اور دیگر مصروفیات کی وجہ سے ان سے اب تک ملاقات نہیں ہوسکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان اسمبلی میں اس وقت کوئی اپوزیشن نہیں ہے، اپوزیشن جماعتوں کی خاموشی معنی خیز ہے، اپوزیشن جماعتوں کو اسمبلی میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

ایک سوال میں ان کا کہنا تھا کہ حب کو ضلع بنانے سے متعلق فیصلہ یا تو عدالت کرے گی یا پھر صوبائی کابینہ اجلاس میں اس کو ایجنڈا رکھ کر حب کو ضلع بنانے سے متعلق نوٹیفکیشن کو ڈی نوٹیفائی کرسکتی ہے، سابق وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ وہ حکومت پر تنقید برائے اصلاح کرتے رہیں گے۔

بلوچستان ہائی کورٹ میں لسبیلہ کو 2 اضلاع میں تقسیم کرنے سے متعلق کیس کی سماعت چیف جسٹس ہائی کورٹ جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس اقبال کاسی پر مشتمل بینچ نے کی۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کیس کا فیصلہ بلدیاتی اور عام انتخابات سے پہلے کرنا چاہتے ہیں، فریقین اپنی درخواستیں عدالت میں جمع کرادیں۔

درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ حب کے نام سے نئے ضلع کی تشکیل میں قوانین کی خلاف وزری کی گئی ہے، نوٹیفکیشن کالعدم قرار دیا جائے۔

آئینی درخواست سابق ڈسٹرکٹ وائس چیئرمین لسبیلہ قادر بخش جاموٹ اور لسبیلہ سے تعلق رکھنے والے وکلاء کی جانب سے دائر کی گئی ہے، کیس کی سماعت 11 اکتوبر تک ملتوی کردی گئی۔

بلوچستان

lasbela

Jam Kamal Khan

HUB DISTRICT

Tabool ads will show in this div